اسلامی مقدسات کی حفاظت میں حزب اللہ کی قربانیاں

ایسے دور میں جب چاروں طرف کفر اور نفاق کے بادل منڈلائے ہوئے ہیں اور دشمن اسلامی مقدسات کی ہتک حرمت پر تلا ہوا ہے حزب اللہ کے مظلوم مجاہدین اسلامی مقدسات کی حفاظت کی سنگین ذمہ داری اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے ہیں اور خاموشی کے ساتھ موت کو اپنی آغوش میں لے رہے ہیں۔ لبنان اور عراق کے شیعہ جوان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح تکفیری دھشتگردوں کے مدمقابل ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنی قیمتی جانیں حریم اھلبیت(ع) کی حفاظت میں قربان کر رہے ہیں۔
حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری سید حسن نصر اللہ نے ۳۳ روزہ جنگ کی کامیابی کی سالگرہ کے موقع پر کہا تھا کہ بیروت میں ہونے والے دھماکوں کا جواب ہماری طرف سے یہ ہو گا کہ اگر اس سے پہلے شام میں ہمارا ایک ہزار مجاہد برسر پیکار تھا تو اب دو ہزار ہو جائے گا اور اگر ہمارے وہاں پانچ ہزار افراد تھے تو اب ۱۰ ہزار ہو جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر میں خود اور حزب اللہ کے تمام تر سپاہی شام، لبنان، فلسطین کے لوگوں کی حفاظت کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔
حزب اللہ لبنان کے مجاہدین شام میں ۲۰۱۲ کے اواخر میں تکفیریوں کا مقابلہ کرنے حاضر ہوئے اور تب سے ابتک تکفیریوں کے ساتھ اس جنگ میں ان کے ۲۵۰ افراد شہید ہو چکے ہیں۔
ابنا نیوز ایجنسی نے حزب اللہ کے ۹۰ ان مجاہدین کی تصویریں شائع کرنے کا شرف حاصل کیا ہے جو شام کے القصیر، السیدہ زینب، حمص، ریف دمشق اور الغوطہ الشرقیہ میں شہید ہوئے ہیں۔








