مغربی باشندوں کے خون کی پیاسی بائیس سالہ برطانوی لڑکی

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلینے والے عسکریت پسند گروپ دولت اسلامی عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجوﺅں کی بڑی تعداد میں موجودگی سامنے آرہی ہے۔ امریکی صحافی جیمز فول کے حال ہی میں آئی ایس آئی ایس کے ہاتھوں قتل کے بعد ایک اور نوجوان برطانوی خاتون منظر عام پر آگئی ہے جو اپنا مغربی طرز زندگی چھوڑ کر شام پہنچ چکی ہے اور امریکی اور برطانوی فوجیوں کو قتل کرنے کیلئے بے تاب ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خدیجہ ڈیر نامی خاتون نے نقاب پہنے ہوئے اور کلاشنکوف اٹھائے ہوئے اپنی تصاویر جاری کی ہیں اور ہی اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ امریکی اور برطانوی فوجیوں کو ہلاک کرنے والی پہلی برطانوی خاتون بننا چاہتی ہے۔ امریکی صحافی جیمز فولی کو آئی ایس آئی ایس نے اغواءکے بعد قتل کردیا ہے اور انٹرنیٹ پر اس ہلاکت کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔ خدیجہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس ہلاکت پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور خود بھی اس طرح کا ”کارنامہ“ سرانجام دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس نے ایک جنگجو سے شادی کررکھی ہے اور اپنے چار سالہ بیٹے عیسیٰ کی بھی کلاشنکوف کے ساتھ تصاویر ٹویٹر پر جاری کی ہیں۔
خدیجہ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کی پیدائش برطانیہ کے شہر لندن کے علاقہ لوئی شم میں بطور غیر مسلم ہوئی اور وہ ماضی میں مغربی لباس، روایات اور طرز زندگی کی دلدادہ رہی ہے۔ اس نے چار سال قبل 18 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور اس کے بعد شام فرار ہوگئی جہاں سویڈن کے جنگجو ابوبکر سے شادی کی۔








