عزاداری امام حسینؑ میں اہل سنت کی بڑھ چڑھ کر شرکت، ہندوستانی سرکار غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے مولانا کلب جواد نقوی
شیعیت نیوز : لکھنؤ — امام بارگاہ غفران مآبؒ میں عشرۂ محرم الحرام کی نویں مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نقوی نے خدا کے وجود پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائنس دانوں نے جتنے نظریات خدا کے وجود کے خلاف پیش کیے ہیں، انہی سے خدا کا وجود ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کربلا صبر، استقامت اور حق کی قربانی کا لازوال پیغام ہے، مولوی فاران ناصر مصطفوی
مولانا نے ’بگ بینک‘ تھیوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مادے سے پہلے بھی ایک طاقت موجود تھی جس نے مادے میں دھماکہ کیا، اسی طاقت کا نام خدا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر مصور کے تصویر نہیں بنتی تو اتنی بڑی کائنات کیسے وجود میں آ سکتی ہے۔
مولانا نے کہا کہ اہل بیت رسولؑ نے خدا کی وحدانیت دنیا تک پہنچائی ہے۔ ائمہ معصومینؑ نے ایسے شاگرد تیار کیے جنہوں نے سائنس اور عقل کی روشنی میں خدا کے وجود کو ثابت کیا ہے۔
عزاداری امام حسینؑ کے حوالے سے مولانا نے کہا کہ عزاداری میں اہل سنت نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ امسال علم فاتح فرات میں بھی اہل سنت کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزاداری کے مراسم پر اہل سنت کو اعتراض نہیں بلکہ سرکار اور انتظامیہ غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انگریزوں کی پالیسی بھی یہی تھی اور آج تک حکومتوں کی بھی یہی پالیسی رہی ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو۔ اب انتظامیہ اور سرکار نئے حربے استعمال کریں کیونکہ انگریزوں کی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔
مولانا نے امام بارگاہ غفران مآبؒ کی مجلس میں شریک عزاداروں کی دھوپ میں کھڑے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سڑک پر شامیانہ لگانے کا کہا تھا مگر انتظامیہ نے دوسرے فرقے کے لوگوں کے اعتراض کا بہانہ بنایا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ باتیں جھوٹ ہیں۔ آئندہ سال عزاداروں کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں گے۔
مجلس کے آخر میں مولانا نے کربلا کے سب سے کم سن شہید حضرت علی اصغرؑ کی شہادت کا واقعہ بیان کیا اور امام حسینؑ کی شہادت پر مجلس ختم کی۔







