بھارت میں مسلمانوں کا جینا حرام ، چار کشمیری طلبہ ہاسٹل سے بیدخل

وزیراعظم بنتے ہی انتہا پسندوں نے بھارت میں مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے علاقے غازی آباد میں زیر تعلیم طالبعلم کو کرنٹ لگانے کے بعد50 کشمیری طلبا کومقامی طلبا نے تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کردیااورحملہ آوروں کی بجائے انتظامیہ نے چارمظلوم کشمیری طلباءکو ہاسٹل سے بے دخل کردیا۔خبررساں ایجنسی کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر غازی آباد میں کالج ہاسٹل سے چار کشمیری طلبہ کو بے دخل کر دیا گیا۔ کچھ روز قبل کرنٹ لگنے سے کشمیری طالب علم تکلیف سے چلا اٹھا اور تکلیف کا سبب جانے بغیر ہندو طلبہ نے اسے شور مچانے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ کشمیری طلبہ نے واقعے کے خلاف احتجاج کیا لیکن طالب علم کی شکایت پر انکوائری کمیٹی نے چار کشمیری طلبہ کو ہاسٹل چھوڑنے کا نوٹس جاری کر دیا۔ انتظامیہ نے واقعے کی تصدیق کر دی ہے تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیاکہ ظلم کا نشانہ بننے والے طلبہ کو کیوں بے دخل کیا گیا اور انتہا پسندوں کے خلاف کیا کارروائی عمل میں آئی۔








