سعودی کورٹ کی دہشت گردی! حقوق انسانی کے ایک وکیل کو گرفتار کر لیا گیا
سعودی عرب کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے ایک وکیل کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دئیے جس کے نتیجے میں انسانی حقوق کے وکیل ولید ابوالخیر کو گرفتار کر لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ولید سعودی عرب میں ایک معروف وکیل ہے جو انسانی حقوق کی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہنے کے ساتھ ساتھ حال ہی میں عدالت میں ایک ایسے کیس کی پیروی کر رہا تھا جس میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے آواز بلند کی گئی تھی۔
ولید ی بیوی نے ذرائع کو بتایا ہے کہ ولید منگل کے روز کمرہ عدالت میں تھا تاہم اس کے بعدا س کا موبائل فون بند ہو گیا جس کے بعد میں نے ولید سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی تاہم بدھ کے روز جب میں عدالت پہنچی اور معلومات کی تو عدالت نے بتایا کہ ولید کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور جیل منتقل کر دیا گیاہے جس کے بعد میں ولید سے ملنے جیل گئی تو جیل انتظامیہ نے مجھے ولید سے ملنے نہیں دیا اور کہا کہ وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی شخص ولید سے نہیں مل سکتا ہے۔
ولید کی بیوی بداوی کاکہنا ہے ولید کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا ہے اور اس کا قصور بھی نہیں بتایا گیا، اس کاکہنا ہے کہ وزارت داخلہ سے رابطہ کیا ہے تاہم وزارت داخلہ کاکہنا ہے کہ دو ہفتوں کے بعد اسے اجازت نامہ دیا جائے گا تا کہ وہ اپنے شوہر سے جیل میں ملاقات کر سکے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی ولید کو اس کی حق گوئی اور سعودی متعصب انتظامیہ پر تنقید کے جرم میں متعدد مرتبہ تین تین ماہ کی قید میں رکھا گیا ہے۔