سعودی عرب

سعودی عرب میں نوجوانوں کو شام بھیجنے کے لئے ذہن سازی کی جا رہی ہے۔رپورٹ

SaudiMenسعودی عرب کے ایک ٹی وی چینل ایم بی سی پر چلنے والے ایک پروگرام ’’تھامینا‘ کے میزبان اینکر داؤد الشریان نے سعودی عرب کی ان پالیسیوں کی شدید مذمت اور تنقید کی ہے کہ جس کے تحت سعودی عرب کے مذہبی نام نہاد اسکالرز نوجوانوں کے اذہابن کو واش کر کے انہیں شام میں لڑائی کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔شیعت نیوز کی مانیٹرنگ ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق اتوار کی شب ایم بی سی ٹی وی پروگرام کے میزبان شرین نے کچھ ماڈرن اور متوسط تجزیہ نگاروں کو ٹی وی پروگرام میں مدعو کیا اور ان سے سعودی عرب کی جانب سے نوجوانوں کو شام بھیجے جانے کے بارے میں سوالات کئے جس پر سعودی تجزیہ نگاروں نے سعودی ناصبی یزیدی نام نہاد اسکالرز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سعودی عرب کی مجموعی پالیسی پر شدید تنقید کی۔
داؤد الشرین نے ان تمام سعودی وہابی نام نہاد مذہبی اسکالر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا یا کہ جو شام میں شامی حکومت کے خلاف نوجوانوں کو بھیجنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
سعودی عرب کے حمد العتیق نامی تجزیہ نگار نے پروگرام میں سعودی عرب کے مفتی سلمان العودا کی شدید مذمت کی کہ جو International Union for Muslim Scholars کا ممبر ہے اور سعودی عرب میں نوجوانوں کو اپنی تقریروں میں شام جا کر لڑائی کرنے کی تبلیغ کر رہاہے۔
ایک اور تجزیہ نگار شیخ عبد العزیز نے کہا کہ ہمارے ملک میں آخر یہ کیا ہو رہاہے کہ جہاد کے نام پر جہاد کی غلط تشریح کی جا رہی ہے اور نوجوانوں کے اذہان کوخراب کیا جا رہاہے اور انہیں شام میں جہاد کی دعوت دی جارہی ہے۔
سعودی عرب کے تجزیہ نگاروں نے کہاکہ سعودی عرب کی حکومت شام میں دہشت گردوں کی براہ راست مدد کر رہی ہے اور نوجوانوں کو ورغلا کر جہاد کے نام پر شام بھیجا جا رہاہے جس کے عالمی سطح پر متعدد رپورٹوں میں ثبوت بھی شائع ہو چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button