سعودی عرب کی چار فریقی کمیٹی سے کنارہ کشی
سفارتی ذرائع نے کہا ہےکہ سعودی عرب نے شام کے بارے میں چار فریقی کمیٹی سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے اور مصری حکومت کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔
سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس وقت چار فریقی کمیٹی کارآمد ثابت نہیں ہوسکتی۔ واضح رہے کہ سفارتی ذریعے نے نام نہ بتائے جانے کی شرط پر کہا ہےکہ سعودی عرب نے قاہرہ سے اختلافات کی بنا پر اس کمیٹی سے کنارہ کشی اختیارکی ہے۔ سعودی عرب کو اس کمیٹی میں ایران کی رکنیت پر اعتراض ہے جبکہ قاہرہ کا کہنا ہےکہ ایران شام کے بحران کو حل کرنے میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔یاد رہے مصر کے نئے صدر محمد مرسی نے شام کے بحران کے حل کےلئے چار فریقی کمیٹی کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی جس میں ایران، سعودی عرب ترکی اور مصر کو شامل کیا گيا تھا۔ سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہےکہ امریکہ کی سربراہی میں سعودی عرب اور بعض دیگر ممالک کسی بھی قیمت پر شام کی حکومت گراکر صیہونی حکومت کو خوش کرنا چاہتےہیں۔ اس ذریعے کے مطابق سعودی عرب اور قطر امریکہ کی سازشوں پر عمل درآمد کررہے ہیں تاکہ شام کامسئلہ پرامن طریقے سے حل نہ ہوسکے۔