سعودی عرب

سعودی بادشاہ کے تیسرے بھائی کا انتقال / سعودی حکومت غیر مستحکم

saudi badsahرپورٹ کے مطابق سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزيز کے بھائی ہذلول بن عبدالعزيز بیرون ملک قیام کے دوران حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کرگئے ہیں۔
آج نماز مغرب کے بعد مکہ معظمہ میں مسجد الحرام کے احاطے میں شہزادہ ہذلول کی میت پر نماز ادا کی گئی۔

شہزادہ ہذلول بن عبدالعزيز کی 1942 میں پیدا ہوئے تھے اور کئی سال تک الہلال فٹ کلب سے وابستہ رہے اور موت کی گھڑی تک الہلال کلب کے اعزازی بورڈ کے سربراہ تھے۔ ہذلول بن عبدالعزیز نے بھی اپنے والد اور بھائیوں کی طرح متعدد شادیاں کررکھی تھیں۔ انھوں نے مجموعی طور پر نو شادیاں کی تھیں اور ان کی اولاد کی تعداد 11 ہے جبکہ ان کی دو بیٹیاں پہلے ہی انتقال کرچکی ہیں۔

ہذلول بن عبدالعزیز سعودی سلسلۂ ملوکیت کے بانی عبدالعزيز کے بتیسویں بیٹے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی بادشاہ کے دو بھائی اور دو ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز اور نائف بن عبدالعزیز بھی دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور تھوڑے ہی عرصے میں بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو تیسرے بھائی کی موت کا صدمہ پہنچا ہے جبکہ ان کی اپنی صحت بھی زیادہ قابل قبول نہيں ہے۔
شہزادوں کا بڑھاپا اور بیماری ملک میں خالی مناصب اور آسامیاں، ایک قسم کی مسابقت کا سبب بن چکی ہیں اور خاندان آل سعود کو حالیہ ایک سال کے دوران اس مشکل کا پہلے سے کہیں زیادہ سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
ادھر برطانوی روزنامے فائننشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ ملک ـ اور خاص طور پر الشرقیہ کے شیعہ اکثریتی علاقوں ـ میں بڑھتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے سعودی حکومت بری طرح غیر مستحکم ہوچکی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق الشرقیہ کے صوبے القطیف میں عوامی مظاہرے نہ صرف جاری ہیں بلکہ ان میں شدت اور وسعت بھی آئی ہے۔
برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ بحرین کے حکمران خاندان کو بچانے اور شیعہ اکثریت پر اس اقلیتی خاندان کی حاکمیت کے تحفظ کے لئے سعودی حکومت کی طرف سے افواج بھجوانے کے بعد سے الشرقیہ کے علاقے میں آل سعود کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شدیدتر ہوگیا ہے۔
فائننشل ٹائمز نے مزید لکھا ہے: سعودی وزیر داخلہ کا دعوی ہے کہ وہ "بلوائیوں” کے ساتھ آہنی مکے سے، نمٹیں گے اور انھوں نے بالواسطہ طور پر اپنے ملک میں رونما ہونے والے مسائل کی ذمہ داری ایران پر عائد کی؛ حالانکہ اس ملک میں شیعہ سیاستدانوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے ملک کے اندرونی سماجی مسائل حل کرے۔
اس اخبار نے مزید لکھا ہے: اس عرب ملک کے اندر شیعہ آبادی ہمیشہ سے امتیازی رویوں، روزگار کے بہت کم مواقع، فوج اور سیکورٹی اداروں میں اعلی مناصب نیز وزارتخانوں میں شیعہ اہلکاروں کے فقدان سے شکایت کرتے چلے آرہے ہیں۔
فائننشل ٹائمز نے لکھا ہے: شیعہ آبادی کے مسلسل احتجاج کی وجہ سے سعودی حکومت اور اس کے حامیوں میں اس حکومت کے عدم استحکام کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button