سعودی عرب:شیعہ قیدیوں کے گلے کاٹنے اور ٹارچر کرنے کے فتوے

12 جنوری, 2011 11:47

saudi_wahabi_killed_shiaسعودی عرب کے وہابی اب تک عراق کے اندر دہشت گردوں کی حمایت اور پشت پناہی کرتے رہے ہیں؛ جب وہ عراق میں کامیاب نہ ہوئے تو اب انھوں نے سعودی عرب میں عراقی شیعوں کےگلے کاٹنے اور انہیں آزار و اذیت دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔رپورٹ کے مطابقسعودی عرب کی وہابی حکومت کے لئے عراق میں ایک شیعہ حکومت کی تشکیل ناقابل برداشت تھی اسی لئے سعودی وہابیوں نے عراق کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کی وسیع پیمانے  پر مدد جاری رکھی، لیکن جب انھیں عراق کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں  میں کوئی کامیابی نہیں ملی تو انھوں نے سعودی عرب میں شیعہ عراقیوں کے گلے کاٹنا اور سر قلم کرنا شروع کردیئے۔
سعودی وہابی ملا اہل تشیع کے خون بہانے کو مباح قراردیتے ہیں اور اس سلسلے میں سعودی وہابی ملاؤں نے بیشمار فتوے بھی جاری کئے ہیں اور وہ عراق، پاکستان اور افغانتسان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی وسیع پیمانے پر حمایت اور پشت پناہی کررہے ہیں جس کی بنا پر سعودی حکومت کو عالم اسلام میں سخت بدنامی اور ناکامی کا سامنا ہے اور یہ معاملہ اتنا اہم ہوگیا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے عراق میں سعودی انٹیلجنس ادارے کی  طرف سے دہشت گردوں کی حمایت پر سعودی انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ مقرن بن عبد العزیز کی سخت سرزنش  کی ہے۔
سعودیوں کی خباثت یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اب انھوں نے رفحاء جیل میں بغیر کسی مقدمہ کے قید عراقی شیعہ قیدیوں کے گلا کاٹنے کی دھمکی دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بظاہر انتہا پسند وہابیوں نے اس جیل پر حملہ کرکے جیل سے 30 قیدیوں کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے!۔
سعودی جیلوں میں بے گناہ عراقی قیدیوں نے انسانی حقوق کے اداروں اور عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں سعودی بربریت اور ظلم و ستم سے نجات دلائیں۔
اسلامی مبصرین کا کہنا ہے کہ سرزمین وحی پر وہابیوں کا طرز سلوک مقبوضہ فلسطین میں  صہیونیوں کے برتاؤ سے ملتا جلتا ہے۔
ادھر عراقی رہنماؤں نے سعودی عرب کے اس اقدام کو اسلامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت کو دہشت گرد وہابیوں کے خلاف اقدامات کرنے چاہئیں اور اہل تشیع کے خلاف فتوے دینے والے وہابی ملاؤں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے ۔
عراق کے قومی اتحاد الائنس کے رکن کمیل موسوی نے کہا ہے کہ ہم نے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل عمرو موسی کے ساتھ ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ عرب لیگ کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب میں جاری وہابیوں کی سرکشی کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات عمل میں لائے۔
انھوں نے کہا کہ مٹھی بھر وہابی ملاؤں کی طرف سے واضح طور پر قتل کے فتوے اور ان غیر اسلامی اور غیر  انسانی فتوؤں پر خاموشی جائز نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب عراق کے ساتھ ایک اچھے ہمسایہ کا کردار ادا کرنے کے بجائے دشمن کا کردار ادا کررہا ہے۔

8:42 شام مارچ 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔