سعودی وزیر داخلہ کی ہٹ دھرمی،شیعہ مساجد کو کھولنے کی مخالفت کر دی

سعودی عرب کے وزیرداخلہ نائف بن عبدالعزیز نے گذشتہ کئی ماہ سے ملک میں بند پڑی شیعہ مسجدوں کوکھولے جانے اور ان کے مذہبی حقوق بحال کئے جانے کی مخالفت کی ہے۔شیعت نیوز کی رپورٹ کے مطابق نائف بن عبدالعزیز نے جوسلفیوں کےساتھ گہرے تعلقات کےلئے مشہور ہیں اہم شیعہ علماء اورشخصیتوں کے ایک وفد سےملاقات میں بند کی جانےوالی شیعہ مسجدوں کودوبارہ کھولے جانے کی مخالفت کی اور کہاکہ اس مسئلے پر غور نہیں کیاجاسکتا۔سعودی حکام
نےگذشتہ مہینوں میں الخبر ، الدمام ، الخفجی ، ابقیق اور راس تنورہ شہروں میں شیعہ مسلمانوں کی نو مسجدوں کو بند کردیاہے۔واضح رہے کہ سعودی حکام شیعہ مسلمانوں کی مسجدیں بند کرنےکے ساتھ ہی گھروں میں بھی انھیں نمازجماعت قائم کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت بالخصوص وزارت داخلہ میں تکفیریوں کےاثر و رسوخ کی وجہ سے شیعہ مسلمانوں پرسخت دباؤ ہے جس کاکوئی قانونی اورشرعی جوازموجود نہیں ہے اور اس کی وجہ سے شیعہ مسلمانوں میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے۔








