کرم ایجنسی ،کرم اور متصل اورکزئی پر میزائل اور راکٹوں کے حملہے کے باوجود عزاداری عقیدت واحترام سے جاری رہی

کرم ایجنسی (نمائندہ خصوصی)۔ کرم اور اس سے متصل اورکزئی پر میزائل اور راکٹوں کی بارش،جوابی کاروائی میں بتیس شدت پسند مارے گئے،حکام کا دعویدریں اثنا کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں بشمول صدر مقام میں دو سو سال سے جاری قدیم جلوس عزا میں ایک لاکھ سے ذیادہ عزاداروں نے شرکت کی جب کہ اورکزئی ایجنسی کے صدرمقام کلایہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی جلوس عزا نکالے گئے۔جلوس عزا سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام اور ذاکرین نے اپنی تقاریر میں کہا کہ بنی امیہ اور یذید کے بدترین ڈکٹیٹرشپ میں جلوس عزا پر پابندی قبول نہیں کی گئی،اس لئے آج کے یزیدی اس بات سے سبق لے لیں کہ ایک طرف جلوس عزا پر راکٹوں کی بارش اور دوسری طرف لاکھوں عزادار بشمول بچے و بزرگ لبیک یا حسینؑ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے سینہ کوبی و ماتم کرکے ظالموں کے منہ پر طمانچے مار رہے تھے۔ علمائے کرام نے حکومت و سیکورٹی فورسز پر دہشت گرد و یذیدی عناصر کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کرم و اورکزئی ایجنسی میں طالبان کے خلاف ڈرامہ باز آپریشن کی بجائے سوات طرز کا حقیقی آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے حکام کو یہ بھی پیشکش کردی کہ اگر تم یذید کی نسل کالعدم طالبان کو ختم نہیں کر سکتے تو پھر چوڑیاں پہن کر قبائل کو کہا جائے اور پھر غیور و محب وطن قبائل ان ملک دشمن و اسلام دشمن یذیدی عناصر کو وہ سبق سکھائیں گے کہ ان کی آنی والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔







