صہیونی حکومت اور آل خلیفہ کے درمیان خفیہ تعلقات

براثا نیوز کے مطابق غسان عادل نے کہا کہ انیس سو تہتر میں جب مصر اور شام نے صحرائے سینا اور جولان کی پہاڑیوں کو آزاد کرانے کے لئے صیہونی حکومت کے خلاف جنگ کی تھی بحرین نے صیہونی حکومت کے ساتھ ہمہ گير تعلقات قائم
کرلئے تھے اور یہ تعلقات آج بھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بحرین کی حکومت نے انیس سو تہتر کی جنگ میں صیہونی حکومت کے جنگي طیاروں کے لئے ایندھن فراہم کیا تھا۔غسان نے کہا کہ صیہونی حکومت کے ساتھ آل خلیفہ کی حکومت کے تعلقات خفیہ اور اعلانیہ طور پر جاری ہیں اور آل خلیفہ کے حکام صیہونی حکام کے ساتھ مختلف یورپی ملکوں اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے موقع پر ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ عادل انیس نے کہا کہ عینیان مرکزی نامی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ تل ابیب اور منامہ کے گہرے تعلقات ہیں اور اسی وجہ سے امریکہ اور صیہونی حکومت آل خلیفہ کی حکومت کے خلاف جاری عوامی تحریک سے بہت زیادہ پریشان ہیں اور اسرائيل نے آل خلیفہ کی حکومت کو باقی رکھنے کے لئے اسے اپنے فوجی اور سکیورٹی ہتھکنڈوں سے آگاہ کیا ہے۔ ادھر اردن کے ایک اخبار السبیل نے لکھا ہےکہ اردن کی حکومت صیہونی حکومت سے فوجی ساز و سامان خرید کر بحرین بھیجتی ہے۔








