شیعہ قصبوں پر حملے، انسانی المیئے کا خدشہ/ صدد شہر مکمل آزاد/ غیرملکیوں کی ہلاکت

31 اکتوبر, 2013 09:33

sham teroristرپورٹ کے مطابق تکفیری دہشت گردوں نے صوبہ حلب میں نبل اور الزہراء کے شیعہ علاقوں پر حملہ کرکے ان کا محاصرہ کرلیا ہے اور ان دو شہروں کے کئی باشندوں کو اغوا کیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق عوامی دفاعی کمیٹیاں دہشت گردوں کا مقابلہ اور اغوا شدگان کو دہشت گردوں سے بازیاب کرانے کی کوشش کررہی ہیں۔
العالم کے مطابق ان شہروں کے مختلف علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں جبکہ ان دونوں شہروں کا کئی مہینوں سے محاصرہ کرلیا گیا ہے اور یہاں کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان علاقوں کو آل سعود سے وابستہ دہشت گرد ٹولوں داعش، احرار الشام اور جبہۃالنصرہ نے محاصرہ کرلیا ہے۔
مذکورہ دہشت گرد ٹولوں نے سوموار کے دن کردوں کی قومی دفاعی فورسز نیز "صقور عفرین” نامی کرد لشکر کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد جلبل، تنب اور الزیارہ نامی بستیوں پر حملہ کیا اور چھ گھنٹوں کی مسلسل جھڑپوں میں فریقین کے درجنوں افراد مارے گئے۔ دہشت گرد ٹولوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان بستیوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور کرد فورسز عقیبہ نامی علاقے میں اپنے مرکزی ہیڈکوارٹر کی طرف پسپا ہوچکی ہیں تاہم مقامی ذرائع نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان علاقوں میں جنگ ابھی جاری ہے اور جلبل میں جن ٹھکانوں پر دہشت گردوں نے قبضہ کرلیا ہے ان پر توپخانے سے شدید گولہ باری کی جا رہی ہے اور دہشت گردوں کو مزید پیشقدمی کی اجازت نہيں دی جارہی ہے۔
ادھر عیسائیوں کے صوبہ حمص میں شہر صدد کو مکمل طور پر النصرہ کے دہشت گردوں سے چھڑا لیا گیا ہے اور سینکڑوں دہشت گردوں کو القلمون کی فیصلہ کن جنگ کی آمد آمد پر ہلاک کیا گيا ہے؛ ایک کار رکھے گئے 200 کلوگرام ٹی این ٹی سے تیار کردہ بم کو دھماکے سے قبل ہی ناکارہ بنایا گیا ہے۔ اور متعدد میزائل اور بم نیز بھاری اور نیم بھاری ہتھیاروں کو برآمد کرکے ضبط کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق صدد شہر کے عیسائیوں کی عبادتگاہوں اور گھروں اور دکانوں کو سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے لوٹ لیا ہے۔ دہشت گردوں نے القلمون کی آنے والی جنگ کے لئے اس شہر کو اپنا اڈا بنانے کی کوشش کی تھی جو ناکام بنادی گئی ہے۔ ادھر ایک رپورٹ کے مطابق عیسائیوں کے اس شہر میں دو اجتماعی قبروں کا انکشاف کیا گیا ہے جن میں 30 بوڑھوں، خواتین اور بچوں کو قتل کرکے دفنایا گیا تھا۔
شہر کی آزادی کے بعد اس کے رہائشی اپنے گھروں میں واپس آئے اور اپنے مقتولین کی تدفین کا انتظام کیا۔
وہابی تکفیریوں نے اس شہر میں داخل ہوتے ہیں ان افراد کو قتل کیا تھا جو ان کے تاریخی جرائم کی پہلی کڑی نہ تھی اور جب تک خاندان آل سعود مقدس سرزمین اور اس سرزمین کے باسیوں کی دولت پر قابض رہے گا اور جب تک انہیں اعوان الظلمہ اور درباری مفتیوں کی حمایت حاصل ہوگی اور جب تک دنیا والے حیرت اور انفعال سے ان کا تماشا جری رکھیں گے اور جب تک عالمی سطح پر عملی احتجاج نہ ہوگا وہابی اور تکفیری اس قسم کے جرائم جاری رکھیں گے اور یہ یہ جرم آخری بھی نہ ہوگا۔
ادھر دیر الزور کے علاقے میں سرکاری فوجوں کی پیشقدمی کر دوران رشدیہ کے محلے میں درجنوں غیر ملکی دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں احرار الشام اور فاتحین شام نامی دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ اردنی شہریت کا حامل ابو صہیب اردنی، بشار عبود المعروف ابو حمام انصاری درجنوں غیر ملکی دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے دیر الزور میں لوگوں کے گھروں اور رہائشی عمارتوں میں بم رکھے ہوئے ہیں لیکن فوج نے عوامی دفاعی کمیٹیوں کی مدد سے متعدد عمارتیں ان سے خالی کرائی ہیں اور بےشمار دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ ان حملوں ميں کئی محلوں سے دہشت گردوں کو پسپا ہونا پڑا جبکہ سرکاری دستوں نے شہر کے مغرب اور مشرق میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کا سراغ لگا کر انہيں توپخانے کی شدید گولہ باری کرکے تباہ کردیا ہے۔
ادھر شام میں جنگ اور حفظان صحت کی ہولناک صورت حال کی وجہ سے پولیو کی بیماری نے ایک بار پھر بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو کو شام کے بچوں کے لئے دہشت گردوں کی گندی جنگ کا تحفہ سمجھا جارہا ہے۔
شام میں 14 سال قبل اس بیماری کی بیخ کنی کی گئی تھی اور اب اس ملک میں گندی دہشت گردانہ جنگ کے نتیجے میں کئی علاقوں سے اس بیماری میں بچون کے مبتلا ہونے کی رپورٹیں موصول ہونے پر عالمی ادارہ صحت نے پورے ملک ميں اس بیماری کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت دہشت گردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم نہ چلاسکی ہے۔
جنگ سے پہلے 95 فیصد بچوں کو ٹیکے لگائے جاتے تھے لیکن اب ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس ملک کے پانچ لاکھ بچے حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہونے کی بنا پر پولیو کے خطرے کا سامنا کررہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ترجمان اولیور روزن بائر نے جنیوا میں خبرنگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 22 بچوں کا ٹیسٹ لیا لیا گیا ہے جن میں 10 افراد کے جسم میں پولیو کا وائرس پایا گیا ہے۔ جبکہ دیر الزور میں 12 ایسے بچوں کا ٹیسٹ لیا گیا ہے جس کا نتیجہ موصول ہونے کا انتظار ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ وائرس متعدی ہے اور اگر ان علاقوں کے لوگوں کو دوسرے علاقوں میں ہجرت کرنی پڑی تو دوسرے علاقے بھی آلودہ ہوسکتے ہیں۔
العالم کے مطابق دیرالزور میں 5 سال سے کم بچوں کی تعداد ایک لاکھ ہے جن کو اس بیماری کے ممکنہ خطرے کا سامنا ہے۔
جنگ کی نئی صورت حال:
آل سعود سے وابستہ داعش کے دہشت گردوں نے احرار الشام نامی دہشت گرد تنظیم کی مدد سے دیر الزور کے نواحی گاؤں "الشمیطہ” کے 72 باشندوں کو اغوا کیا ہے۔ مغویوں میں البوسرایا خاندان کے گاؤں کے رہائشی فیصل الفیاض بھی شامل ہیں جو کہ شام کے رکن پارلیمان ہیں۔
ادھر شامی افواج نے بھی مختلف علاقوں میں دہشت گردوں پر حملے کئے ہیں۔ کل (بروز منگل 29 اکتوبر 2013) شامی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے حلب، الرقہ، درعا اور ریف دمشق میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور عوامی کمیٹیوں نے الحسکہ میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کیں اور "صفا”، "کرہوک”، "الیوسفیہ”، "جنیبیہ” اور "ابو حجر” نامی بستیوں اور ان کے اطراف کو القاعدہ کے دہشت گردوں سے خالی کرایا اور ریف الجوادیہ میں داعش اور جبہۃ النصرہ نیز دوسرے دہشت گرد ٹولوں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد اس علاقے میں بھی پیشقدمی کی اور کئی علاقوں کو آزاد کرایا۔
لندن میں تعینات "سیرین ہیومین رائٹس واچ” کہلوانے والی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ الجوادیہ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر التوحید و الجہاد نامی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ نے اپنا اور اپنے ماتحتوں کا اسلحہ اور گولہ بارود کرد عوامی دفاعی کمیٹیوں کی تحویل میں دیا۔ اس علاقے سے مجاہدین کو ملنے والی غنیمت میں ایک ٹینک، دو کاتیوشا راکٹ لانچرز، کئی فوجی ٹرک اور بھاری مشین گنوں سے لیس کئی پک اپ گاڑیاں نیز مارٹر گن اور ہلکے توپ شامل ہیں۔
یہ کاروائی الجوادیہ کے نواح میں اس گروپ کے ٹھکانے کا محاصرہ کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی۔ شامی کردوں نے چند روز قبل الیعربیہ گذرگاہ کو مقامی قبائل کی مدد سے دہشت گردوں سے آزاد کرایا تھا۔

7:36 شام اپریل 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔