شام ۲۳ سالہ جوان ذبح، دل دہلا دینے والی تصویر

27 جون, 2013 08:43

shaheed shamشام میں سرگرم دھشتگردی گروپ جبہۃ النصرہ کے خطرناک اور وحشتناک اقدامات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
شامی فوج کے ہاتھوں مسلسل شکست کا سامنا کرنے کے باعث دھشتگردوں کی درندگی اور حیوانیت نے زور پکڑ لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس وحشی قوم کے حالیہ اقدامات کا ایک نمونہ یہ سامنا آیا ہے کہ انہوں نے شام عراق باڈر پر ڈیوٹی دینے والے ایک شامی سپاہی کا سر کاٹ کر اس کی نمائش لگائی ہے۔

شامی فوج کا یہ ۲۳ سالہ یوسف قیس عبدین نامی سپاہی جو یعقوبیہ کے علاقے میں شام عراق باڈر پر ڈیوٹی دے رہا تھا گزشتہ دنوں میں جبہۃ النصرہ کے عناصر نے اسے اغوا کر لیا اور اس کا سر قلم کرنے کے بعد لوگوں میں دھشت پھیلانے کے لیے اسے نمائش کے طور پر سڑک

shaheed sham1میں ڈال دیا۔

اس دھشتگردی گروہ نے یوسف قیس کو اغوا کرنے کے ایک ہفتہ بعد اس کے موبائل سے اس کے گھر والوں کو کال کر کے یوسف کو گمراہ اور کافر ٹھہرایا اور اس کی تصویر دیکھنے کے لیے انہیں فیس بک کے النصرہ پیج پر دعوت دی۔

شامی دھشتگردوں کو عربی ممالک، ترکی اور استعماری طاقتوں کی پوری حمایت حاصل ہونے کے باوجود بحران شام کے شروع ہونے سے اب تک شام میں دھشتگرد، فوجیوں اور غیر فوجیوں کا صرف قتل عام کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ وہ ملک کے کسی بھی شہر پر مکمل قبضہ نہیں کر پائے جبکہ اس وقت ملک کے تمام مناطق شامی فوج کے اختیار میں ہیں۔
شام کے لوگ ابھی بھی اپنی حکومت اور بشار الاسد کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں اسی وجہ سے دھشتگرد مختلف طرح کے وحشیانہ اقدامات کر کے لوگوں کے درمیان دھشت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کی استقامت کو توڑنا چاہتے ہیں۔

11:21 شام مارچ 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔