مصر کے شیعوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔ صدر جمہوریہ کی موجودگی میں شیعوں کی توہین

العالم کی رپورٹ کے مطابق مصر کے شیعوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شیعہ اپنے مذہب سے کسی کو مطلع کرنے سے خوف کھاتے ہیں۔
مصر کے مقامی شخص ’’ضیاء محمد‘‘ نے انقلاب مصر کے بعد تکفیری سلفیوں کے حکومت میں نفوذ پیدا کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شیعوں کی افسوس ناک حالت کے بارے میں فرانس نیوز ایجنسی کے نمائندے سے گفتگو میں کہا: جب سلفیوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ہم شیعہ ہیں تو ہمیں اذیت کرتے ہیں اور دیہاتوں میں رہنے والے شیعوں کے ساتھ اپنے روابط ختم کر کے ان کے ساتھ خرید و فروش کے معاملات ترک کر دیتے ہیں۔
مصر کی اکثر آبادی اہل سنت پر مشتمل ہے جبکہ مصری سنیوں کے دلوں میں اہلبیت علیہم السلام کی محبت ہمیشہ سے رہی ہے لیکن انقلاب مصر کے بعد سلفیوں کی طرف سے ہونے والی شیعہ مخالف تبلیغ نے فضا کو بدل دیا ہے۔
انقلاب مصر کے بعد حکومتی عہدہ داروں نے مصری شیعوں کی تنظیم ’’حزب التحریر‘‘ کو رجسٹرڈ کرنے سے منع کر دیا ان کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم دینی تفکرات پر مبنی ہے جب کہ مصر کے بنیادی قانون میں مذہبی تنظیم کا رجسٹرڈ کرنا خلاف قانون ہے۔
اس تنظیم کے جنرل سیکریٹری محمود جابر کا کہنا ہے: ہمیں واضح طور پر انہوں نے کہہ دیا کہ اگر آپ لوگ ہزار مرتبہ بھی اس کام کے لیے درخواست دائر کریں گے تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔
ان کا کہنا ہے: ہماری تنظیم کی مخالفت اس صورت میں کی گئی جب اخوان المسلمین سے وابستہ دوسری تنظیموں جیسے ’’حزب آزادی‘‘ اور ’’حزب عدالت‘‘ اور سلفی گروہ پر مشتمل ’’حزب النور‘‘کو رجسٹرڈ کر لیا گیا۔
قاہرہ کی امریکی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے استاد ڈاکٹر ’’اشرف الشریف‘‘ نے کہا: مصر میں شیعوں کی مشکلات ان کی اقلیت کی وجہ سے ہیں۔
انہوں نے کہا: موجودہ حکومت ایک خاص مذہبی تکفر کے تحت تشکیل پائی ہے جو لوگ اس کے ہم فکر نہیں ہیں ان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔
اس استاد نے مزید تاکید کی: شیعوں کی ایک مشکل یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے طفیل سلفی افکار کے لوگ بر سر اقتدار آ گئے ہیں جو پورے مصر میں بھرپور طریقے سے شیعوں کے خلاف تبلیغ اور پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتہ محمد مرسی کی موجودگی میں شام کے بحران کے سلسلے میں ہونے والی ایک کانفرنس میں بعض افراطی سلفیوں نے کانفرنس کے اندر مذہبی تعصب کی فضا قائم کر دی اور سلفیوں کے مفتی شیخ محمد عبد المقصود نے اس کانفرنس میں شیعوں کو ’’نجس‘‘ کہا۔
ایک طرف سلفی علماء کی شیعہ مخالف تبلیغیں دن بدن زور پکڑ رہی ہیں اور دوسری طرف حکومتی عہدہ دار شیعہ ہونے والوں کے ساتھ شدید برتاو کر کے اس مذہب کے مصر میں پھیلنے کو روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز الازھر یونیورسٹی میں معلم قرآن کی حیثیت سے کام کرنے والے استاد کو شیعہ مذہب قبول کرنے کے جرم میں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔اس کے باوجود مصر میں شیعہ مذہب کثرت سے پھیل رہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شیعہ مذہب قبول کر لیا ہے۔








