۱۵ بحرینی انقلابیوں کو دس دس برسوں کی قید کی سزائیں

منامہ میں آل خلیفہ کی عدالت نے جمعرات کو تین انقلابیوں کو پندرہ برس اور تین کو دس برسوں کی قید کی سزا سنائي ہے۔ ادھر آل خلیفہ کی نام نہاد عدالت نے نو انقلابیوں کو ایک پولیس کے قتل کرنے کے بے بنیاد الزام میں دس دس برسوں کی قید کی سزاسنائي ہے۔ آل خلیفہ ایسے عالم میں بحرینی شہریوں کو سزائيں سنارہی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ آل خلیفہ نے تشدد کرکے قیدیوں سے اعترافات لئے ہیں اور اس طرح سے لئے جانے والے اعترافات معتبر نہیں ہوتے۔
واضح رہے کہ آل خلیفہ نے پہلے بھی مختلف بہانوں نے انقلابی بحرینیوں کو جیلوں میں بند کر رکھا ہے اور جیلوں کے اندر انہیں اپنے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
دو روز قبل آل خلیفہ جیل سے رہا ہونے والی ایک بحرینی خاتون ڈاکٹر فاطمہ ہادی جسے صرف اس الزام میں جیل میں بند کیا تھا کہ انہوں نے مظاہرین میں زخمی ہونے والے افراد کا معالجہ کیا تھا نے رشا ٹوڈے ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ بحريني سيکورٹي اہلکار انہيں اور ان کے ساتھيوں کو سونے نہيں ديتے تھے اور قيديوں کو گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور کرتے تھے۔
بحرين کي خاتون ڈاکٹر فاطمہ ہادي کا کہنا تھا کہ جيلوں ميں انہيں اور ان کےساتھيوں کو کھانے اور پينے کو بھي نہيں ديا جاتا تھا-
انہوں نے بتايا کہ بحريني سيکورٹي فورس کے اہلکار قيديوں کو حتي رفع حاجت کي بھي اجازت نہيں ديتے تھے، اس کے علاوہ جيلوں کے اندر قيد ڈاکٹروں کو پائپ اور لوہے کے سريوں سے زد و کوب کرتے اور ان کے سروں پر بجلي کے کرنٹ لگاتے تھے۔
بحرين کي خاتون ڈاکٹر نے يہ بھي بتايا کہ آل خليفہ حکومت کے کارندے خاتون ڈاکٹروں کو جنسي زيادتي کي دھمکي ديتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ان کي عصمت دري کرنے کے بعد انہيں قتل کرديں گے۔
بحرين ميں عوام کي پرامن تحريک فروري دوہزار گيارہ سے جاري ہے اور اس کو کچلنے کے لئے بحريني اور سعودي حکومت نے طاقت اور بربريت کا استعمال کيا جس کے دوران اب تک دسيوں بحريني شہري شہيد اور سيکڑوں ديگر زخمي ہوچکے ہيں۔ اس درميان حکومت نے بہت سے ڈاکٹروں کو ملازمتوں سے نکال ديا ہے۔








