بحرین:وہابی سلفی افواج کی جارحیت ،6 شیعہ اور سنی رہنماءوں کی گرفتاری

17 مارچ, 2011 13:22

arrestedبحرین میں جاری انقلابی تحریک کو کچلنے کے لیے بحرین پہنچنے والی امریکی اور صہیونی نواز اسراییلی صفت سعودی جارح افواج نے بحرین کے شیعہ اور سنی عوام کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔شیعت نیوز کی اطلاعات کے مطابق گذشتہ شب سلفی وہابی سعودی جارح افواج نے بحرین کے مختلف علاقوں میں رات گۓ چھاپے مار کر چھہ شیعہ اور سنی رہنماؤ ں کو گرفتار کر لیا ہے،یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی وہابی فوجیوںکی انتہایی جارحیت اور ٹینکوں کی گولہ باری کے باوجود بھی بحرین کے جمہوریت پسند اور انقلابی عوام آج بھی پر اسکوایٔر پر جمع ہویے اور حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا ،واضھ رہے کہ بحرین میں سعودی جارح افواج نے ہوایی اور زمینی راستوں سے بحرینی عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رکھا ہے اور مسلسل احتجاجی مظاہروں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا جا رہاہے لیکن دوسری جانب بحرین کے انقلابیوںنے ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کی دہشت گردانہ کارواییوں کی پرواہی کیے بغیر مظاہرے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
ان مظاہروں میں سعودی وہابی سلفی فوجیوںکی دہشت گردانہ کارواییوں میں اب تک ایک ہزار سے زاید بحرینی شیعہ اور سنی شدید ذخمی ہو چکے ہیں جبکہ متعدد شہید بھی ہو چکے ہیں۔
بدھ کی صبح ہونے والی اس کارروائی میں جو بادشاہت کے خلاف مزاحمت کی علامت بن جانے والے پرل سکوائر میں جمع مظاہرین کے خلاف ہوئی، تین پولیس اہلکاروں سمیت تین مظاہرین ہلاک ہوگئے۔
بحرین میں صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے دو روز قبل سعودی عرب سمیت خطے کے کچھ دیگر ملکوں کی فوج آئی تھی لیکن اس سے معاملات مزید پیچدہ ہوگئے ہیں۔ مظاہرین کہتے ہیں کہ انھیں غیر ملکی فوج قبول نہیں۔
فوج نے اس ہسپتال پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا تھا۔
بحرین کے وزیرِ صحت نے جو خود شیعہ مسلمان ہیں حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کےاستعمال پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ مناما سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بحرین میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کی سلفیوںکے ہاتھوں شہادتوں ہر بحرین میں تمام کے تمام شیعہ جج حضرات بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔
بحرین کی آبادی آٹھ لاکھ ہے اور یہاں امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ ہے۔ بہرین خلیج کے ممالک میں وہ پہلا ملک ہے جس پر عرب دنیا میں شروع ہونے والے احتجاج کا براہِ راست اثر پڑا ہے۔
اس سے قبل ڈاکٹرز نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کسی بھی شخص کو ہسپتال میں جانے یا نکلنے کی اجازت نہیں دے رہی تھیں اور انھیں دھمکایا جا رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کا علاج گھروں اور مساجد میں کیا جا رہا ہے۔
بحرین کی اکثریتی شیعہ اور سنی  مسلمانوں کی آبادی کا کہنا ہے کہ سلفی وہابی  حکمران ان کے ساتھ امتیاز برتتے ہیں اور انھیں معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ملازمتوں میں سلفی اور وہابیوںکے لیے نرم گوشہ استعمال کیا جاتا ہے۔

4:45 شام اپریل 10, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔