رہبرِ معظم امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (مدظلہ العالی) کے خطاب کے کلیدی نکات
شیعیت نیوز : رہبرِ معظم امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (مدظلہ العالی) کے خطاب کے کلیدی نکات
رہبر انقلاب اسلامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا:
معجزہ اور بصیرت: آپ اپنی آنکھوں سے ایک "معجزہ” دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسے صحیح طریقے سے دیکھیں، اس کی حقیقت کو سمجھیں اور تاریخ کے "درست رخ” پر کھڑے ہوں۔
برادرانہ خیر سگالی: ہمیں اب بھی آپ کی طرف سے ایک مناسب ردِعمل کا انتظار ہے، تاکہ ہم آپ کو اپنی "برادری اور خیر سگالی” دکھا سکیں۔
استکبار سے بیزاری: یہ خیر سگالی تب تک ممکن نہیں جب تک آپ "استکباری طاقتوں” سے اپنا رخ نہیں موڑ لیتے۔
جارحیت کا بدلہ: ہم اپنے ملک پر حملہ کرنے والے بدطینت جارحیت پسندوں کو "ہرگز بغیر سزا کے نہیں چھوڑیں گے”۔
خون کا حساب: ہم دشمن سے پہنچنے والے ہر نقصان کا معاوضہ، "شہداء کے خون کی قیمت” اور زخمی غازیوں کے ہر زخم کا بدلہ لیں گے۔
آبنائے ہرمز: ہم آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام کو ایک "نئی اور بلند تر سطح” پر لے کر جائیں گے۔
حق سے دستبرداری ناممکن: ہم جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن کسی بھی صورت میں اپنے "قانونی اور جائز حقوق” سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
متحدہ محاذِ مزاحمت: ہم پورے "فرنٹ آف ریزسٹنس” (محاذِ مزاحمت) کو ایک واحد اور ناگزیر اکائی سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم آج شام اہم بیان جاری کریں گے
قومی ہمدردی: قوم کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھے تاکہ "جنگ کے دباؤ” کے اثرات معاشرے پر کم سے کم ہوں۔
انتظامی کوششیں: اشیاء کی قلت اور دیگر مسائل کو حکومت اور اداروں کی کوششوں سے "کافی حد تک قابو” کر لیا گیا ہے۔
ذہنی تحفظ: یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے کانوں کو—جو ہمارے دل و دماغ کی کھڑکیاں ہیں— "دشمن کے میڈیا” سے محفوظ رکھیں۔
میڈیا وار کا مقابلہ: ہمیں یا تو ایسے میڈیا سے بچنا چاہیے، یا پھر ان کی ہر خبر کو "انتہائی شک کی نگاہ” سے دیکھنا چاہیے۔
انتقام کا عزم: مسلط کردہ جنگوں کے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا "پختہ ارادہ” قوم کے دلوں میں زندہ ہے۔
ہمہ وقت بیداری: پوری قوم اس عزم کی تکمیل کے لیے "مسلسل بیدار اور چوکنا” ہے۔







