صدر: ملک کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گي
ڈاکٹر حسن روحاني نے سنيچر کو نئے وزير خارجہ محمد جواد ظريف کي تعارفي اور سابق وزير خارجہ علي اکبر صالحي کي الوداعي تقريب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ايران کے عوام کے مفادات کے حصول اورتکميل ميں کسي بھي طرح کي غفلت نہيں ہوني چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پاليسي کاميدان نعرے لگانے کي جگہ نہيں ہے بلکہ اس ميدان ميں دانشمندي دقت اور منطقي طريقے سے عمل کرنے کي ضرورت ہے –
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے کہا کہ ايران کي وزارت خارجہ کے عہديدار ايراني عوام کے حق وحقوق کے امين اور محافظ ہيں، بنابريں اگر انہوں نے ذرا سي بھي غلطي کي توانہيں عوام کے سامنے جواب دہ ہونا گا – صدر ڈاکٹرحسن روحاني نےکہا کہ چودہ جون کے صدارتي انتخابات ميں عوام نے خارجہ پاليسي ميں نظر ثاني کي خواہش کا ا ظہار کيا ليکن نظرثاني کامطلب ہرگزيہ نہيں ہے کہ ملک کي مجموعي خارجہ پاليسي يا اصول ميں کوئي تبديلي آئے گي ۔انہوں نے کہا کہ صرف روش اور کام ميں تبديلي ہوگي –
انہوں نے کہا کہ ايران کي وزارت خارجہ کے سبھي افراد باصلاحيت اور جذبہ فداکاري سے سرشار ہيں جنہوں نے انتہائي حساس حالات ميں بھي ايران کي خدمت کي ہے – اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے سابق وزير خارجہ علي اکبر صالحي کي خدمات اور کارکردگيوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئي حکومت ميں ہم انہيں ايران کي ايٹمي توانائي ايجنسي ميں ديکھ کر خوش ہيں اور وہ اس ادارے کے سربراہ کي حيثت سے کام کريں گے –
صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئےکہ نئے وزير خارجہ محمد جواد ظريف بھي اس عہدے پراپني ذمہ داريوں کو اچھي طرح نبھا سکتے ہيں، کہا کہ ايران کے وزارت خارجہ کا قلمدان جواد ظريف کی تعليمي اسپشلائزيشن سے مربوط ہے اور خارجہ پاليسي کےميدان ميں ان کا طويل تجربہ ہے۔