پورے ایران میں یوم معلم منایا گیا

۲ مئی ایران کے پروفیسر شہید مرتضی مطھری کے یوم شہادت کی مناسبت سے ملک بھر میں یوم معلم منایا گیا۔
دومئي انيس سو اناسي کو سياہ دل منافقين کے ہاتھوں عصرحاضر کے عظيم مفکر اور فيلسوف پروفيسر مرتضي مطہري کي شہادت کے بعد اسلامي جمہوريہ ايران ميں اس دن کو يوم معلم قرارديا گيا۔
پروفيسر شہيد مطہري نے قم شہر ميں ديني تعليم کے حصول کے دوران انقلابي تحريک ميں بھي حصہ ليا اور اسلامي تحريک کے آغاز سے ہي وہ اس کے سرگرم کارکنوں اور امام خميني رح کے قريبي ساتھيوں ميں سے تھے۔
اسی موقع پر کل پورے ايران ميں مختلف تقريبات، سميناروں اور کانفرنسوں کا اہتمام کيا گيا۔
تہران کي ڈيفنس يونيورسٹي ميں ايک تقريب کو خطاب کرتے ہوئے عدليہ کے سربراہ آيت اللہ صادق آملي لاريجاني نے شہيد مرتضي مطہري کي زندگي کے مختلف پہلووں پر روشني ڈالي اور ان کے اعلي علمي مقام و مرتبے نيز بيش بہا خدمات کو خراج عقيدت پيش کيا – انہوں انساني حقوق کے تعلق سے شہيد مرتضي مطہري کے نظريئے پر روشني ڈالتے ہوئے اس بارے ميں مغرب کے دوہرے معياروں پر سخت تنقيد کي – انہوں نے کہا کہ انساني حقوق ان ملکوں پر مغرب کے ذريعے دباؤ ڈالنے کا ايک ذريعہ ہے جو مغربي ملکوں کے اصولوں کو قبول نہيں کرتے –
آيت اللہ لاريجاني نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ ايران گذشتہ تين عشرے سے زائد عرصے سے امريکي جارحيت کے مقابلےميں ڈٹا ہوا ہے کہا کہ ايران کي استقامت کي ہي وجہ سے امريکا اور مغربي ممالک ايران پر انساني حقوق کي خلاف ورزي کا جھوٹا الزام لگاتے ہيں –
آيت اللہ آملي لاريجاني نے کہا کہ اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد ايران ميں مختلف سطح کا اوسطا ہر سال ايک اليکشن ہوا ہے اور جس ملک ميں اتنے انتخابات ہوتے ہوں اس پر انساني حقوق کي خلاف ورزي کا الزام لگايا جاتا ہے –
آيت اللہ لاريجاني نے کہا کہ اس کے برخلاف ايران کے پڑوس ميں واقع بحرين ميں عوام اپنے حق رائے دہي کے لئےجد وجہد کررہے ہيں ليکن بحريني حکومت کے خلاف انساني حقوق کي خلاف ورزي کي کوئي بات نہيں ہوتي –








