یمن پر جارحیت نے محمد بن سلمان کے غلط اندازوں کو بے نقاب کر دیا، امین النمر
شیعیت نیوز : سعودی اپوزیشن رہنما امین النمر نے کہا ہے کہ برسوں کی مہنگی جنگ اور بھاری اقتصادی و سیاسی نقصانات کے باوجود یمن پر سعودی جارحیت کا تسلسل محمد بن سلمان کے غلط اندازوں کو بے نقاب کرتا ہے، جو صنعاء سے براہ راست مذاکرات کے بجائے بحران کو طول دے رہے ہیں۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آل سعود نے جارحیت ختم کرنے اور اپنی پالیسی پر نظرثانی کے کئی مواقع ضائع کیے، اور جنگ جاری رکھنے سے ویژن 2030 اور نیوم جیسے منصوبوں سمیت سعودی اقتصادی عزائم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
امین النمر نے کہا کہ یمن پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی قیادت کے پاس جارحیت جاری رکھنے کا کوئی قائل کرنے والا جواز نہیں، اور حرمین شریفین کا نام جارحیت کے لیے سیاسی و مذہبی پردہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی دعوے پر طاہر اشرفی یمنیوں کو دہشت گرد کہنے لگے، یمنی شہداء پر خاموشی
انہوں نے یاد دلایا کہ شیخ حسین الراضی نے 2016 میں یمن پر جنگ کی کھل کر مخالفت کی تھی جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا اور وہ جیل میں لاپتہ ہیں، جبکہ سعودی عرب کے اندر اور باہر گرفتاریوں اور دباؤ کے باوجود جنگ کی مخالفت جاری ہے۔
امین النمر نے کہا کہ عمان، کویت اور ایران کے ساتھ سعودی رابطے جارحیت ختم نہیں کرا سکے، اور بحران سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سعودی رجیم فوجی کشیدگی روکے، محاصرہ ختم کرے، ہوائی اڈوں پر حملے بند کرے اور صنعاء سے براہ راست مذاکرات کرے۔







