امریکی و صیہونی حکمران صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں، سربراہ مجمع تشخیص مصلحت نظام

25 اکتوبر, 2026 18:18

شیعیت نیوز : ایران کی مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ آیت اللہ صادق آملی لاریجانی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کے رہنما آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی جو بات کر رہے ہیں اس کی اصل وجہ ان کی اپنی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات ہیں۔

آیت اللہ آملی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ مغربی وزرائے خارجہ ان دنوں کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، ان میں سے کوئی جنگ کے اپنی معیشت پر اثرات کا ذکر کرتا ہے تو کوئی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے سنگین نتائج کا۔

انہوں نے کہا کہ برسوں سے ایران اور مغرب کی استعماری پالیسیوں کے سامنے نہ جھکنے والے ممالک پر پابندیاں اور دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ ایرانی عوام کے خلاف جنگ اور فلسطین و لبنان کے عوام پر دہائیوں سے جاری قبضے اور قتل عام پر مغرب خاموش رہا، لیکن جب ان کے اپنے شہریوں کی زندگی مشکل ہوئی تو امن کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جب تک چاہے گا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رہے گا، جنرل مصطفیٰ ایزدی

آیت اللہ آملی لاریجانی نے اسے مغرب کے انسانی حقوق کے دوہرے معیار اور مفاد پرستی کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے ایرانی بحری جہاز دنا کو غرق کیے جانے اور امریکی صدر کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں جہاز کو قبضے میں لینے کے بجائے غرق کرنے کو زیادہ لطف بخش قرار دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام ہمیشہ منصفانہ اور عادلانہ مذاکرات کے لیے آمادہ رہے ہیں، لیکن ایندھن کی قیمتوں کے خدشات کی وجہ سے ہونے والی امن کی کوششیں قیمتیں بدلنے کے ساتھ اپنا رخ بھی بدل سکتی ہیں۔ آیت اللہ آملی لاریجانی نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ مغربی ممالک اور ان کے علاقائی حامیوں کے ظلم و زیادتی کے مقابلے میں ثابت قدمی کے ذریعے ہی ممکن ہے، کیونکہ امریکی و صیہونی حکمران اور ان کے یورپی حامی طاقت کی زبان کے سوا کسی اور طریقے سے ظلم اور جرائم سے باز نہیں آئیں گے۔

7:27 شام اکتوبر 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔