انسان کو حق قبول کرنے میں اپنی انا اور ضد کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے، علامہ ضیغم عباس خان
شیعیت نیوز : مدرسہ دارالقرآن کے پرنسپل و بانی علامہ ضیغم عباس خان نے کہا ہے کہ انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن غلطی تسلیم کر کے اس کی اصلاح کرنا اخلاقی جرأت کی علامت ہے، اس لیے انسان کو اپنی انا اور ضد کو حق قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ وہ لیہ میں مرکزی اجتماعِ نمازِ جمعہ سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : توبہ صرف ندامت نہیں، حق دار کا حق لوٹانا بھی تقاضا ہے، علامہ شبیر حسن میثمی
علامہ ضیغم عباس خان نے کہا کہ انسان کی حقیقی کامیابی قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے وابستگی اور اپنی عملی زندگی کو احکاماتِ الٰہی کے مطابق ڈھالنے میں ہے۔ انہوں نے مؤمنین کو دعوت دی کہ وہ اپنا محاسبہ کریں کہ قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات اور واجباتِ دین پر وہ کس حد تک عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے روزِ قیامت کی حسرت و ندامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آخرت میں اصلاح کے لیے دنیا میں واپسی کا کوئی موقع نہیں ہوگا اور موت سامنے آ جانے کے بعد کی توبہ فائدہ نہیں دیتی، لہٰذا انسان کو زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گناہوں سے اجتناب اور سچی توبہ کے ذریعے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ عقیدۂ توحید پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اہلِ بیتؑ کی محبت و ولایت کا تقاضا ان کے مقام کی صحیح معرفت ہے، حضرت علی علیہ السلام کو خدا قرار دینا غلو اور عقیدۂ توحید کے منافی ہے، آپؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ ولی اور بندے ہیں۔
علامہ ضیغم عباس خان نے کہا کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر واجباتِ شرعی کا مذاق اڑانا یا ان کی اہمیت کم سمجھنا نہایت سنگین معاملہ ہے، اور مؤمنین کو دینی احکامات کی پابندی اور بدعات سے اجتناب کی تلقین کی۔ انہوں نے والدین کی نافرمانی کو سنگین گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ والدین کے ساتھ ادب و حسنِ سلوک انسان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، اور ان کے انتقال کے بعد بھی دعا، استغفار اور صدقے کے ذریعے نیکی کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔







