ناوی پیلای کو نوبل امن انعام کا ملنا غزہ کے لیے انصاف کی جانب اہم قدم ہے، حماس
حماس
شیعیت نیوز : فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے جنوبی افریقہ کی نامور قانون دان ناوی پیلای کو نوبل امن انعام دیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے غزہ کے مظلوم عوام کے لیے انصاف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ حماس نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ نوبل انعام کے لیے ناوی پیلای کا انتخاب اس بات کا واضح عکاس ہے کہ بین الاقوامی جرائم اور نسل کشی کے مرتکب صیہونی عناصر کو جواب دہ ٹھہرانا کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یمنی فضائیہ کی شاندار کارروائی، تعز میں سعودی عرب کا ترک ساختہ جاسوس ڈرون مار گرایا
حماس نے ستمبر 2025 میں ناوی پیلای کی سربراہی میں قائم آزاد بین الاقوامی کمیشن کی ان جرات مندانہ رپورٹس کا خصوصی حوالہ دیا، جن میں غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب اور قابض صیہونی افواج کی کارروائیوں کی تباہ کن نوعیت کو واضح طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ مزاحمتی تحریک نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اب محض زبانی جمع خرچ تک محدود نہ رہے بلکہ ان ٹھوس شواہد کو عملی قانونی کارروائیوں میں تبدیل کر کے جنگی جرائم کے مرتکب اسرائیلی حکام کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ حماس نے صیہونی مجرموں کو سزا سے استثنا دینے کی ظالمانہ عالمی پالیسی کو فوری ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ ناوی پیلای کو یہ اہم بین الاقوامی اعزاز ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب غاصب اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست امریکہ، اسرائیلی حکام کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی رکوانے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو کھلی دھمکیاں دے رہا ہے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔







