پاکستان کو علاقائی جنگوں سے دور رکھا جائے، علامہ سید جواد نقوی
علامہ سید جواد نقوی
شیعیت نیوز : سربراہ تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور کے مہتمم علامہ سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ دین کو صرف عبادات اور انفرادی رسومات تک محدود کر دینا اس کے جامع تصور کی نفی ہے۔ اسلام انسانی زندگی کے اجتماعی معاملات کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام اور قیادت کو خبردار کیا کہ وہ فالس فلیگ آپریشنز اور عالمی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور پاکستان کو کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے امن اور ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
02 اکتوبر 2026ء کو مسجد بیت العتیق، جامعۃ العروۃ الوثقیٰ میں نماز جمعہ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید جواد نقوی نے تقوائے الٰہی، نظامِ دین، تسلسلِ امامت اور نمازِ جمعہ کے اجتماعی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دین کی اصل ترتیب میں تبدیلی کے باعث اس کے جامع نظام کو سمجھنے میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نمازِ جمعہ محض دو رکعت نماز کا نام نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے اجتماعی شعور، بیداری اور انہیں عصری مسائل سے آگاہ کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی ایران پر حملے کی تیاریاں؟ مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری افواج میں بھاری اضافے کی منصوبہ بندی
موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خطیب جمعہ نے "فالس فلیگ آپریشنز” (False Flag Operations) کے خطرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں کسی واقعے کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر اسے فوجی کارروائی کا جواز بنایا گیا۔ حرمین شریفین کے حوالے سے پھیلائی جانے والی بعض خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ پاکستانی عوام ان مقدس مقامات کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں، لہٰذا دشمن طاقتیں ایسے واقعات گھڑ کر عوامی جذبات کو بھڑکا سکتی ہیں تاکہ پاکستان کو کسی نئی جنگ میں دھکیلا جا سکے۔
علامہ سید جواد نقوی نے ایران اور خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر عالمی دباؤ اور دشمن کے اندازوں کے برعکس ایرانی عوام اور قیادت نے بے مثال مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے یمن کے مظلوم عوام اور وہاں جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ مسلمانوں کے درمیان انتشار پیدا کرنے کے بجائے خطے میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
خطبے کے اختتام پر انہوں نے پاکستانی عوام کو تلقین کی کہ وہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کو بلا تحقیق قبول نہ کریں بلکہ حالات کا شعوری تجزیہ کریں تاکہ کوئی انہیں اپنے مذموم سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔







