ٹرمپ کی ایران پر حملے کی تیاریاں؟ مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری افواج میں بھاری اضافے کی منصوبہ بندی
شیعیت نیوز : امریکی فوج کی جانب سے آئندہ چند ہفتوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں اپنی بحری افواج کی موجودگی میں غیر معمولی اضافے کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، امریکی حکام نے بتایا ہے کہ یہ جنگی تیاریاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت اور حملے دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، اس امریکی عسکری منصوبے کا بنیادی مقصد امریکی صدر اور جنگ کی نگرانی کرنے والے فوجی کمانڈروں کو کسی بھی جارحیت کے لیے مزید لچک اور جنگی آپشنز فراہم کرنا ہے۔ امریکی فوج نومبر کے دوران تین بڑے طیارہ بردار بحری جہازوں کو ان کے حفاظتی و معاون بحری بیڑوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ منتقل کرنے پر بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دشمن نے حماقت کی تو ایران کی طاقت کے نئے پہلو دیکھے گا، آیت اللہ علی رضا اعرافی
امریکی حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ان طیارہ بردار جہازوں کے اسٹرائیک گروپس میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار فوجی اہلکار، 150 جنگی طیارے اور بڑی تعداد میں تباہ کن ڈسٹرائرز (Destroyers) شامل ہوں گے۔ ان ڈسٹرائرز میں خطرناک میزائل داغنے اور جوابی میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے جنگی جہاز بھی موجود ہوں گے۔ واضح رہے کہ امریکی حکام اس سے قبل ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، اور اس نئی صف بندی سے خطے میں امریکی جنگی جنون اور تسلط پسندانہ عزائم مزید کھل کر سامنے آگئے ہیں۔







