ٹرمپ کی ایران پر حملے کی گیدڑ بھبکیاں، آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ہتھیاروں کے ذخیرے پر متضاد دعوے
دہشت گرد ٹرمپ
شیعیت نیوز : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ایران کی معیشت تباہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی فرسودہ دھمکیاں دہرائی ہیں۔ ٹرمپ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں اور وہ ایران کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے دو ٹوک موقف اپنایا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات صرف اسلامی جمہوریہ کی شرائط تسلیم کرنے سے ہی مشروط ہوں گے، جبکہ ٹرمپ اپنی مرضی کے نام نہاد ’’حقیقی معاہدے‘‘ کے خواہاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : عراق سے امریکی افواج کا ذلت آمیز انخلاء، حزب اللہ کی عراقی عوام اور مرجعیت کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد
امریکی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایرانی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی تعمیری تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز کو ناکافی قرار دیا۔ زمینی حقائق کے برعکس، جہاں آبنائے ہرمز پر اسلامی جمہوریہ ایران کا کنٹرول مسلمہ ہے، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے اس آبی گزرگاہ کو ایران کے لیے بند کر کے اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے اور تاریخ کی سب سے بڑی مقدار میں تیل وہاں سے گزارا ہے۔ دوسری جانب عسکری ماہرین کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی اسٹریٹجک ہتھیاروں کے ذخائر اس وقت اپنی بدترین سطح پر ہیں، تاہم ٹرمپ نے ان زمینی حقائق کو جھٹلاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس ہتھیاروں کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور وہ اسے اپنے اتحادیوں میں تقسیم کریں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پُرامن اور بین الاقوامی اداروں کی کڑی نگرانی میں ہے، اور اس نے کبھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کی۔ اس کے باوجود امریکی صدر نے توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ خطے پر مسلط کردہ جنگی جنون اور اس کے نتیجے میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہوتے ہی تیل کی قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔







