آلِ سعود کی خوشنودی کے لیے یمن مخالف متنازع فتویٰ، درباری مفتی طاہر اشرفی کا مکروہ کردار بے نقاب

30 ستمبر, 2026 19:21

شیعیت نیوز : آلِ سعود کی کاسہ لیسی میں پیش پیش نام نہاد مفتی طاہر اشرفی کی جانب سے یمن کے مظلوم مسلمانوں کے خلاف دیا گیا حالیہ فتویٰ ان کے درباری اور ظالمانہ کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ محض ریالوں کی چمک اور سعودی حکام کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے یمنیوں کے اسلام سے تعلق پر بے بنیاد سوالات اٹھا کر اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے، جس پر باشعور مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکپتن میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، کالعدم لشکر جھنگوی کا خطرناک دہشت گرد گرفتار

اسلامی تاریخ اور احادیثِ رسولِ خدا (ص) میں اہلِ یمن کے فضائل اور ان کے ایمان کی گواہی صریحاً موجود ہے، جسے یہ نام نہاد عالم دین دنیاوی مفادات کی خاطر جھٹلا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے اس متنازع فتوے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خانہ کعبہ اور حرمین شریفین پوری امتِ مسلمہ کے لیے عقیدت کا مرکز ہیں، جنہیں سعودی عرب کی سیاسی خامیوں اور یمن پر مسلط کردہ جنگ کو جواز فراہم کرنے کے لیے ڈھال بنانا قرآنی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

گزشتہ دنوں مدینہ منورہ میں سعودی حکام کے ہاتھوں ملنے والے نام نہاد اعزازات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ یمن مخالف فتوے دراصل انہی نوازشات کا صلہ ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آج کا مسلمان باشعور ہے، وہ پرانے دور میں نہیں جی رہا کہ حق اور باطل کے درمیان تمیز نہ کر سکے۔ یمن کے خلاف ایسی ہرزہ سرائی سوائے سعودی غلامی اور یزیدی طرزِ عمل کے اظہار کے اور کچھ نہیں، جسے امت مسلمہ نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

8:13 شام ستمبر 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔