سعودی رجیم اور متحدہ عرب امارات کی ایران کیخلاف جھوٹ کی فیکٹریاں، امریکی و اسرائیلی جنگ کی تیاریاں
شیعیت نیوز : سعودی رجیم اور متحدہ عرب امارات نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جھوٹ کی درجنوں فیکٹریاں کھول دی ہیں جو دن رات تاریخ کو مسخ کر کے ایران کو ولن ثابت کرنے کی مذموم کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ اس زہریلی پروپیگنڈہ مہم کا اصل مقصد یہ ہے کہ سعودی رجیم اور امارات دونوں مبینہ طور پر نومبر کے امریکی انتخابات کے بعد، ایران کے خلاف متوقع امریکی اور اسرائیلی جنگ میں براہ راست شامل ہونے جا رہے ہیں اور اس کے لیے ابھی سے زمین ہموار کر رہے ہیں۔
ان بے بنیاد دعووں اور جھوٹ کا پردہ چاک کرنا انتہائی ناگزیر ہے تاکہ عوام تک سچائی پہنچ سکے۔ اس مہم کے دوران ایک بڑا جھوٹ یہ بولا جا رہا ہے کہ ایران نے عراق کے خلاف امریکہ کی مدد کی تھی اور خائن سعودی مولویوں کے بقول ایرانی ان امریکی ٹینکوں پر سوار تھے جنہوں نے عراق فتح کیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عراق کے خلاف امریکی جنگ زیادہ تر فضائی کارروائیوں پر مشتمل تھی۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی قوم کی استقامت اور مشکل حالات میں رہبرِ انقلاب کا انتخاب اقوامِ عالم کے لیے اہم سبق ہے، علامہ مقصود ڈومکی
زمینی حقائق کے مطابق، ایران 2003ء میں عراق پر مسلط کی گئی امریکی جنگ میں مکمل طور پر غیر جانبدار رہا۔ یہ ایک قدرتی امر تھا کہ ایرانی عوام صدام حسین کی تباہی پر مطمئن تھے کیونکہ اسی ڈکٹیٹر نے امریکہ اور عرب دنیا کی ایماء پر 1980ء سے 1988ء تک ایران پر مسلط کردہ جنگ کی تھی اور اب وہی صدام اپنے سابقہ آقاؤں کے نشانے پر تھا۔ تاہم، جنگ کے ایک سال بعد 2004ء میں جب ایران نے محسوس کیا کہ قابض امریکی فوج اس کی سرحدوں پر موجود ہے جو اس کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، تو ایران نے اگلے 7 سالوں تک عراق میں امریکی فوج کی زندگی جہنم بنا دی۔
ایران نے خطے کے دفاع کے لیے مجاہدین کی بھرپور مدد کی، جس کے نتیجے میں اوباما انتظامیہ نے حلف اٹھاتے ہی عراق سے امریکی فوج کا انخلاء شروع کر دیا جو 2011ء میں تقریباً مکمل ہو گیا۔ ایران نے عراق میں امریکیوں کے ساتھ بالکل وہی سلوک کیا جو ایک ازلی دشمن کے ساتھ کرنا چاہیے تھا، بصورتِ دیگر عراق کے فوراً بعد امریکہ کا اگلا نشانہ ایران ہی ہوتا۔







