سعودی رجیم کے زیرِ تسلط حرمین کے خطبات میں غزہ، لبنان، قطیف اور پاراچنار کے مظلومین کا ذکر گول: امت میں تشویش
حرمین شریفین
شیعیت نیوز : مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جاری انسانی بحرانوں کے درمیان سعودی رجیم کے زیرِ تسلط حرمین شریفین کے جمعہ خطبات میں غزہ، لبنان، ایران، شام، بحرین، قطیف اور پاراچنار کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں کسی واضح اور مخصوص آواز کا نہ اٹھنا ایک اہم سوال بن کر سامنے آیا ہے۔ 25 ستمبر کے دستیاب خطبہ خلاصوں کے مطابق مسجد الحرام میں محض امن و اتحاد اور مقدسات کے تحفظ پر زور دیا گیا، جبکہ مسجد نبوی میں آخرت اور جنت کی نعمتیں موضوعِ گفتگو رہیں، لیکن مظلومین کا کوئی واضح ذکر سامنے نہیں آیا۔
یہ صورتِ حال ایک اہم سوال اٹھاتی ہے کہ جب امت کے مختلف خطوں میں مسلمان جنگ، بے گھری اور انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں، تو عالمِ اسلام کے سب سے نمایاں منبروں سے ان کے دکھ کا کم از کم عمومی تذکرہ تک کیوں نہیں ہوتا۔ حرمین کے خطبات میں امن اور مقدسات کے تحفظ پر گفتگو اپنی جگہ اہم ہے، لیکن امت کے اجتماعی درد اور مختلف خطوں کے مظلوم مسلمانوں کے مسائل بھی اسلامی اخوت، عدل اور انسانی ہمدردی کے دائرے میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : میاں چنوں: سی سی ڈی پولیس مقابلے میں کالعدم سپاہ صحابہ کے 2 دہشت گرد جہنم واصل
حرمین کے منبر سے کسی سیاسی فریق کی حمایت مقصود نہیں، بلکہ ضرورت ایک ایسی اصولی آواز کی ہے جو ظلم کی مذمت اور مظلوم کی حمایت کرے، خواہ وہ غزہ میں ہو، لبنان میں، شام میں، بحرین، قطیف یا پاراچنار میں۔ مقدسات کی حرمت کے ساتھ مظلوم انسان کی جان کی حرمت بھی اسلامی ذمہ داری ہے۔ اگر سعودی رجیم کی پالیسیوں کے برعکس حرمین کے منبر سے یہ پیغام بلاامتیاز پوری امت تک پہنچے تو اس کی معنوی تاثیر کہیں زیادہ وسیع ہوگی۔







