عصرِ غیبت میں جامع الشرائط فقہاء کی پیروی ضروری ہے، علامہ حسن سروری
علامہ حسن سروری
شیعیت نیوز : مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو کے نائب امام جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ حسن سروری نے خطبۂ جمعہ میں شکرِ نعمت، والدین کے احترام، نمازِ جماعت کی اجتماعی اہمیت اور عصرِ غیبت میں دینی رہنمائی کے لیے جامع الشرائط فقہاء و مراجعِ تقلید کی پیروی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مومن کو اپنی زندگی اور وسائل کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنا چاہیے اور حقیقی شکر محض زبان سے ادائیگی کا نام نہیں بلکہ نعمت کو اللہ کی مرضی کے مطابق بروئے کار لانا ہے۔
انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عصرِ غیبت میں ایسے فقیہ کی پیروی ضروری ہے جو اپنے نفس اور دین کا محافظ، خواہشات کا مخالف اور مولا کے احکام کا مطیع ہو۔ علامہ حسن سروری نے نمازِ جماعت کو مسلمانوں کے اتحاد اور اخوت کا عملی مظاہرہ قرار دیا اور والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ نرمی برتنے کی سختی سے تاکید کی، البتہ واضح کیا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی بالخصوص موبائل فون اور سوشل میڈیا کو بے مقصد استعمال کرنے کے بجائے دینی اور علمی معلومات کے حصول کے لیے مثبت انداز میں استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی استکبار کے مقابلے میں امت کی بیداری ناگزیر ہے، علامہ سید جواد نقوی
خطبے کے دوسرے حصے میں انہوں نے گلگت بلتستان کے سنگین عوامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ خطے کے آئینی حقوق، ٹیکس کے معاملات، بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد اور بالخصوص سکردو میں بجلی کے سنگین بحران کے مستقل حل پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔ انہوں نے اعلان کردہ سولر منصوبے پر جلد پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کوہاٹ دہشت گردی کی مذمت کی اور اقوام متحدہ میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے فلسطین کے حق میں جرات مندانہ مؤقف کی حمایت کی۔







