اسلام آباد میں سیاسی محاذ آرائی: تصادم کے بجائے مذاکرات اور کُل جماعتی کانفرنس کی ضرورت، علامہ عارف واحدی
عارف واحدی
شیعیت نیوز : اسلام آباد میں جاری طویل سیاسی احتجاج اور شاہراہوں کی بندش نے شہریوں کی زندگیوں کو مفلوج اور شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے اپنے ایک تفصیلی مضمون میں کہا ہے کہ پرامن احتجاج ایک قانونی اور جمہوری حق ہے، لیکن عوام کے روزگار، کاروبار اور مریضوں کی ہسپتالوں تک رسائی کو روکنا کسی صورت جائز نہیں ہے، کیونکہ شہریوں کی زندگیاں سیاسی اختلافات سے زیادہ قیمتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کی ذمہ داری صرف اپوزیشن پر نہیں بلکہ حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ طاقت کے استعمال اور محاذ آرائی کے بجائے مظاہرین کے تحفظات سنے اور کشیدگی کو مذاکرات کی میز پر حل کرے۔ علامہ عارف واحدی نے تجویز دی کہ حکومت تمام جماعتوں پر مشتمل ایک ‘کُل جماعتی کانفرنس’ (اے پی سی) طلب کرے، جس میں صرف سیاسی بحران ہی نہیں بلکہ معاشی مشکلات، ملکی سلامتی اور دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز پر بھی بامعنی مشاورت کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام میں اسراف اور تبذیر کی ممانعت، اللہ کی نعمتوں کا ضیاع ناقدری ہے، سید احمد شاہ الحسینی
رہنما شیعہ علماء کونسل نے متنبہ کیا کہ اگر ہماری توانائیاں آپس کی لڑائی اور انتشار میں صرف ہوتی رہیں تو خطے میں موجود دشمن قوتیں ملک کی اندرونی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست کو اقتدار کے حصول کے بجائے عوام کی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے، سیاسی اختلافات کو کھلی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے اور تمام طبقات، بالخصوص مذہبی و سیاسی قوتیں، ملک میں امن، اتحاد اور قومی مفاہمت کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔







