حزب اللہ اور امل تحریک اس وقت مستحکم ترین پوزیشن میں ہیں، لبنانی رکن پارلیمنٹ

23 ستمبر, 2026 19:44

شیعیت نیوز : لبنانی پارلیمنٹ کے رکن اور مزاحمتی پارلیمانی بلاک کے سربراہ محمد رعد نے واضح کیا ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے پاس محدود کرنے سے متعلق کسی بھی بات کو لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے صہیونی حکومت کے مکمل انخلا، جارحیت کے خاتمے اور دریائے لیطانی کے جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی سے مشروط ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اور امل تحریک اس وقت اپنی بہترین حالت میں ہیں اور اسلامی مزاحمت نے انتہائی حساس و پیچیدہ حالات میں جارحیت کے مقابلے میں ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔

ویب سائٹ ’’المدن‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد رعد نے کہا کہ وہ صہیونی حکومت کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے ایسے کسی بھی معاہدے کے لیے تیار ہیں جو دشمن کو کوئی رعایت دیے بغیر انخلا اور جارحیت کے خاتمے کی ضمانت دے۔ انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون سے آئین اور قومی مفاہمت کی پاسداری کا مطالبہ کیا۔ خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کے استحکام پر زور دیا اور بتایا کہ ایران کا اصرار ہے کہ لبنان کا مسئلہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں عمل درآمد کے لیے پہلے نکتے کے طور پر شامل ہو۔

یہ بھی پڑھیں : نوجوان نسل کے مضبوط ہاتھ ایران کے مستقبل کی ضمانت ہیں، محمد باقر قالیباف

محمد رعد نے علی الطاہر کی پہاڑیوں میں ہونے والی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میدان سے حاصل ہونے والے اسباق دشمن کے خلاف مقابلے میں انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن اور اس کے اتحادیوں کے وہ تمام اندازے ناکام ہو گئے جن میں حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے یا شکست کی امید لگائی گئی تھی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جب دشمن کا انخلا یقینی ہو جائے اور لبنانی فوج اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کے تحت دریائے لیطانی کے جنوب میں تعینات ہو جائے، تب ہی ریاست کے پاس ہتھیاروں کو محدود کرنے اور قومی جامع دفاعی حکمت عملی میں مزاحمت کے کردار پر بات چیت کا سازگار ماحول پیدا ہوگا۔

8:26 شام ستمبر 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔