امریکی دھمکیاں بے سود، واشنگٹن جنگ کے خاتمے کے لیے ہماری شرائط تسلیم کرے، میجر جنرل محسن رضائی
محسن رضائی
شیعیت نیوز : ایرانی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے ایران کے حوالے سے اندازے غلط تھے اور موجودہ جنگ نیتن یاہو کے ورغلانے پر شروع ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے مفاد میں ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہماری شرائط قبول کر لے، کیونکہ ٹرمپ کی دھمکیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور ہم ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قطری اور پاکستانی ثالثوں سے مشاورت جاری ہے، اور ہم نے قطری ثالث کے ذریعے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور بحری محاصرے کے خاتمے کی شرائط واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں، اب ٹرمپ کے جواب کا انتظار ہے۔
میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ ہم امریکی فوج کی کمزوریوں سے واقف ہیں اور فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں۔ مفاہمت نامے سے واشنگٹن کی دستبرداری کے بعد ہم نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے اور حال ہی میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب اینٹی شپ میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ہم دفاع کے معاملے میں سنجیدہ ہیں، اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو خطے میں امریکی اڈوں اور واشنگٹن کے مفادات کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : دنیائے کفر مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر اسلحہ فروخت کرنا چاہتی ہے، ایرانی اہلسنت عالم دین
جوہری امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات ہمیں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے دستبردار ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ ہم نے ابھی تک اس معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا اور یہ مکمل طور پر واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اب بھی شہید رہبر کے فتوے پر قائم ہیں اور اپنی جوہری حکمتِ عملی میں کوئی تبدیلی نہیں کی، تاہم معلوم نہیں کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔
یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سعودی رجیم اور یمن کے درمیان جاری جنگ ختم ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ یمنی بھی سعودی رجیم کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں۔







