خانۂ کعبہ کسی سلطنت کی جاگیر نہیں؛ مکہ کے نام پر سیاست اور یمن جنگ کا بیانیہ
پروفیسر تنویر حیدر نقوی
شیعیت نیوز : معروف تجزیہ کار اور بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر تنویر حیدر نقوی نے اپنے حالیہ مقالے میں اس حساس ترین موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح مقدس مقامات بالخصوص خانۂ کعبہ کو حکومتی، سیاسی اور فوجی مقاصد کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خانۂ کعبہ کسی سلطنت کی جاگیر، بادشاہ کا محل، سیاسی جماعت کا دفتر یا کسی فوجی اتحاد کا مورچہ نہیں ہے۔ یہ وہ گھر ہے جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان نماز کے لیے رخ کرتے ہیں، اور اس کی عظمت کسی حکومت کے فرمان سے نہیں بلکہ صدیوں کی ایمانی نسبت سے قائم ہے۔
پروفیسر نقوی کے مطابق، تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ انسان نے خدا کے گھر کو بھی اپنی سیاست سے محفوظ نہیں رکھا۔ کبھی مکہ کو بچانے کے نام پر جنگ کی گئی، تو کبھی حرمین کے تحفظ کو حکومت کی بقا کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مکہ کو خطرہ ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مکہ کے نام کو سیاسی دلیل کیوں بنایا جاتا ہے؟
خلیج فارس جنگ اور امریکی فوجوں کی آمد
انہوں نے 1990ء کی خلیج فارس جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جب عراقی فوج کویت پر قابض ہو کر سعودی سرحد کے قریب پہنچی تو سعودی رجیم نے خطرے کے پیشِ نظر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجیں بلانا شروع کر دیں۔ غیر مسلم امریکی فوجوں کی سرزمینِ حجاز میں آمد ایک انتہائی حساس مذہبی مسئلہ بن گئی۔ اس وقت سعودی رجیم نے اپنے اقدام کو شرعی جواز فراہم کرنے کے لیے مکہ میں 350 علماء کا ایک اجلاس بلوایا، اور یوں جنگ کا میدان فوجی محاذ سے نکل کر مقدس جغرافیے تک پھیل گیا۔ امریکی زیر قیادت اس اتحاد میں پاکستان کے بھی تقریباً 5000 فوجی شامل تھے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عراقی فوج سعودی سرزمین تک پہنچ بھی جاتی، تو کیا وہ خانۂ کعبہ کو نقصان پہنچاتی؟ ایسا ہرگز نہیں، آخر وہ کلمہ گو تھے اور طواف ہی کرتے۔ کسی ملک پر حملہ کرنا اور مقدس مقام کو تباہ کرنا دو الگ دعوے ہیں، اور یہیں سے مذہبی جذبات کو سیاست کا سب سے طاقتور ہتھیار بنایا جاتا ہے۔
یمن جنگ اور انصاراللہ پر جھوٹے الزامات
مقالے میں یمن کی جنگ کے تناظر میں ہونے والے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ 2016ء اور 2017ء میں سعودی رجیم نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ انصاراللہ نے مکہ کی سمت بیلسٹک میزائل داغا ہے۔ حوثیوں (انصاراللہ) نے فوری اور سختی سے اس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا ہدف جدہ کا ہوائی اڈا تھا، مقدس مقامات پر حملے کا
یہ بھی پڑھیں : ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت نہ کرنا آئی اے ای اے کا دوہرا معیار ہے، بہروز کمالوندیکوئی تصور ہی موجود نہیں۔
کسی میزائل کا سعودی سرزمین کی طرف آنا ایک فوجی واقعہ ہے، لیکن اسے "خانۂ کعبہ پر حملہ” قرار دینا ایک گھناؤنی سیاسی اور مذہبی تعبیر ہے۔ ریاست جب خود کو مقدسات کی محافظ قرار دیتی ہے تو عوام سوال کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں، اور رفتہ رفتہ یہ تصور جنم لیتا ہے کہ جو حکومت کے خلاف ہے، دراصل وہ مقدسات کے خلاف ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اختلافِ رائے غداری اور سیاسی مخالفت مذہبی دشمنی میں بدل دی جاتی ہے۔
ستمبر 2026 کی کشیدگی اور مذہبی طبقات کا دوہرا معیار
ستمبر 2026ء میں یمن اور سعودی رجیم کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انصاراللہ کے جوابی حملوں کے نتیجے میں سعودی رجیم کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ اس نئے بحران کے تناظر میں پاکستان، ترکی اور سعودی رجیم کے درمیان مبینہ ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ زیر بحث آیا، تاہم 10 ستمبر کو پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ فوری طور پر کسی فوجی کارروائی پر بات نہیں ہوئی۔
پروفیسر تنویر حیدر نقوی نے اپنے مقالے کے اختتام پر ایک انتہائی فکر انگیز سوال اٹھایا ہے: آج تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ پہلے جارح عراق تھا، آج مدافع یمن ہے۔ لیکن صدام حسین کے دور میں جب سعودی رجیم نے حرم کے تحفظ کے نام پر اتحادیوں کا لشکر جمع کیا تھا، تو جو مذہبی طبقات صدام کو اپنا ہیرو مانتے تھے، انہوں نے سعودی بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ مگر آج یمن کے معاملے میں وہی طبقہ سعودی رجیم کے اسی پرانے اور گھسے پٹے بیانیے کا اندھا حامی کیوں بن گیا ہے؟







