دو سو راتوں کی مسلسل مزاحمت: سڑکوں پر خوف کو یکجہتی میں بدلنے والے ایرانی عوام کی داستان

15 ستمبر, 2026 19:25

شیعیت نیوز : دو سو راتوں سے لوگ مسلسل رات کے وقت سڑکوں پر آ رہے ہیں۔ ابتدا میں شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ جدوجہد اور تعداد دو سو راتوں تک پہنچ جائے گی۔ یہ دو سو راتیں محض کیلنڈر کے خانے نہیں ہیں، بلکہ ان لوگوں کی داستان ہیں جو اس عرصے میں تھکے، خوف زدہ ہوئے، اپنوں کی یاد میں تڑپے، روئے اور پھر اگلی رات دوبارہ چل پڑے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیاں رکی نہیں، صبح کام پر جانے اور دن بھر کی مصروفیات کے بعد رات ہوتے ہی وہ اپنی زندگی کا ایک حصہ سڑک پر لے آتے ہیں۔

ذرا اس ماں کا تصور کیجئے جو تھکن کے باوجود اپنے بچے کا ہاتھ تھامے ہجوم میں کھڑی ہے۔ مزاحمت دراصل اتنی ہی سادہ ہوتی ہے؛ یہ کہ انسان اپنی تمام تھکن کے باوجود پھر بھی آئے اور حالات کو اپنے آپ پر اس قدر حاوی نہ ہونے دے کہ ہر چیز سے الگ ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی دھونس کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے، ایرانی صدر

مزاحمت ہمیشہ نعروں اور بلند آواز سے ظاہر نہیں ہوتی، کبھی اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ اب بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان دو سو راتوں نے لوگوں کو اندر سے بدل دیا ہے۔ جو شخص پہلی رات آیا تھا، وہ اب ویسا نہیں رہا، اس نے بہت کچھ کھویا اور پایا ہے، لیکن اس نے ایک چیز کو برقرار رکھا ہے کہ وہ تنہا نہیں رہنا چاہتا۔ رات کے ان اجتماعات نے تنہائی کے خوف اور غم کی شکل بدل دی ہے۔ جب انسان ہجوم میں ہوتا ہے تو بھاری غم اور تشویش کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

یہ دو سو راتیں ڈٹے رہنے کی وہ داستان ہیں جس میں تھکن کی حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو شخص دو سو راتوں سے آ رہا ہے، وہ ناقابلِ شکست انسان نہیں، لیکن تمام تر تھکن، اداسی اور بری خبروں کے باوجود اگلی رات اس کا "دوبارہ آنا” ہی مزاحمت کی سب سے حقیقی شکل ہے۔ یہ سڑکیں گواہ ہیں کہ دو سو راتیں گزرنے کے بعد بھی، عوام کے پاس الگ الگ خوف سے لڑنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے اور واپس آنے کی مضبوط وجہ اب بھی موجود ہے۔

8:01 شام ستمبر 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔