ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت نہ کرنا آئی اے ای اے کا دوہرا معیار ہے، بہروز کمالوندی

16 ستمبر, 2026 10:15

شیعیت نیوز : اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری توانائی ادارے کے ترجمان اور بین الاقوامی امور کے نائب سربراہ بہروز کمالوندی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی 70ویں جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی معاندانہ پالیسیوں اور ایجنسی کے دوہرے معیار پر کڑی تنقید کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کے دباؤ پر میزبان ملک نے ایجنسی کے میزبان معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ اور نائب صدر محمد اسلامی کو اس اہم اجلاس میں شرکت سے روک دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکہ کا غیر سنجیدہ اور دشمنانہ رویہ قرار دیا۔ کمالوندی نے واضح کیا کہ امریکہ گزشتہ نصف صدی سے ایران کے خلاف بغاوت، دہشت گردی، صدام حکومت کی حمایت اور براہ راست جنگ جیسی سازشوں میں ملوث رہا ہے، لیکن ایران ہر بار ان حالات سے سرخرو ہو کر نکلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شہید مولوی یوسف گرگیج کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہر حال میں انتقام لیں گے، جنرل احمد وحیدی

بہروز کمالوندی نے ایجنسی کے دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر 1981 میں عراق کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت کی گئی تھی تو ایران کی تنصیبات پر اس سے کہیں بڑے حملے کی مذمت کیوں نہیں کی گئی؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایجنسی کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملے کی واضح اور شدید مذمت کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کے مسلسل فوجی اور سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر اہم تنصیبات کو محفوظ اور زیرِ زمین مقامات پر منتقل کرنا فطری امر ہے اور اسے خفیہ کاری قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ان حساس مقامات پر بھی ایجنسی کے معائنہ کار ہمیشہ موجود رہے ہیں۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ایران کی پرامن جوہری ٹیکنالوجی کی شاندار کامیابیوں کا ذکر کیا جن میں نمایاں ہیں:

  • بوشہر کے 1000 میگاواٹ جوہری بجلی گھر نے 2023 سے 2025 کے دوران عالمی کارکردگی کے اشاریوں میں 100 میں سے 100 پوائنٹس حاصل کیے۔

  • ملک میں جوہری توانائی سے 80 ارب کلوواٹ گھنٹے سے زائد بجلی پیدا کی گئی، جس سے 13 کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل کی بچت ہوئی اور ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی آئی۔

  • جوہری طب کے شعبے میں 76 سے زائد تشخیصی اور علاجی ریڈیو ادویات تیار کی جا رہی ہیں، جن سے 230 مراکز میں 15 لاکھ سے زائد مریض مستفید ہو رہے ہیں۔

  • زرعی اور غذائی مصنوعات کی جراثیم کشی اور طبی آلات کی اسٹرلائزیشن کے لیے تابکاری اور سرد پلازما ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال جاری ہے۔

بہروز کمالوندی نے واضح کیا کہ صنعتی اور علمی مراکز پر حملے ایران کو ترقی سے نہیں روک سکتے۔ ایرانی قوم طاقت کے زور پر دباؤ ڈالنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کے اسٹریٹجک نعرے کا اعادہ کیا کہ ’’جوہری توانائی سب کے لیے، جوہری ہتھیار کسی کے لیے نہیں‘‘۔

11:13 صبح ستمبر 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔