پمز ہسپتال نرسری میں آتشزدگی، تحقیقاتی رپورٹ میں انتظامی غفلت اور عملے کی بہادری کے شواہد سامنے آ گئے
پمز ہسپتال
شیعیت نیوز : اسلام آباد کے پمز (PIMS) ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ 52 نکاتی اس تفصیلی رپورٹ میں فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ریکارڈز اور گواہوں کے بیانات کی مدد سے آگ لگنے کی وجوہات، عملے کے ردعمل اور ادارہ جاتی خامیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ نے اس تاثر اور عمومی الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ آگ لگنے کے وقت فرنٹ لائن طبی عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران پر امریکی جارحیت اسلام پر حملہ ہے، پاکستان یمن جنگ کا حصہ نہ بنے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
رپورٹ میں ہسپتال انتظامیہ کی سنگین غفلت اور واقعے کے حوالے سے درج ذیل اہم انکشافات کیے گئے ہیں:
-
آگ لگنے کی بنیادی وجہ: نیشنل فرانزک ایجنسی کے تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا مقام اے سی یونٹ نمبر 1 کے قریب موجود اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی کی کیبل تھی۔ یہ آگ کسی مقامی برقی نقص، زائد کرنٹ یا کیبل انسولیشن متاثر ہونے کے باعث لگی۔ آتش زنی یا انکیوبیٹر سے آگ لگنے کے شواہد نہیں ملے۔
-
عملے کی جرات مندانہ کارروائی: سی سی ٹی وی ریکارڈ کے مطابق صبح 6:38 پر آگ بھڑکنے کے بعد چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم، اسٹاف نرس رضیہ نورین اور ڈاکٹر محمد عبدالرحمان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر فوری کارروائی کی۔ نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بحفاظت نکالا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
-
ہنگامی حفاظتی نظام کا فقدان: نرسری جیسے حساس حصے میں خودکار دھوئیں کا الارم، اسپرنکلر سسٹم اور نومولود بچوں کے ہنگامی انخلاء کے لیے ایس او پیز (SOPs) کا کوئی نام و نشان موجود نہیں تھا۔
-
گنجائش سے زیادہ مریض اور عملے کی کمی: 10 بستروں کے یونٹ میں 15 انتہائی نازک نومولود زیر علاج تھے، جن میں سے بیشتر آکسیجن پر تھے۔ اس نازک وقت میں ڈیوٹی پر صرف 2 ڈاکٹر اور 2 نرسیں موجود تھیں۔
-
بیرونی امداد طلب کرنے میں ناقابلِ قبول تاخیر: آگ 6:38 پر لگی، لیکن بیرونی امدادی اداروں کو 06:54 پر اطلاع دی گئی، جو 07:01 پر موقع پر پہنچے۔ یہ تاخیر پمز میں ہنگامی کمانڈ سسٹم کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ آلات کے فعال ہونے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ان کی برقی تنصیبات بھی محفوظ تھیں۔ آتش گیر مواد اور آکسیجن والے ماحول نے آگ کی شدت کو مزید بڑھا دیا جس کے باعث یہ واقعہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو گیا۔







