پارلیمانی آواز کو کمزور نہیں، مضبوط کرنا ہوگا، مجلس وحدت مسلمین کے نمائندگان کا مؤثر کردار قابلِ تحسین

21 اگست, 2026 19:09

شیعیت نیوز : ملک میں مسائل کا سلسلہ جاری ہے تو اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ قومی اسمبلی، سینیٹ یا صوبائی اسمبلی میں بار بار مسائل کی نشاندہی اور آواز بلند کرنے کا آخر فائدہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب آئین اور پارلیمانی نظام کی روح میں مضمر ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان کا بنیادی کام قانون سازی، عوامی نمائندگی، مسائل کو ایوان میں اٹھانا اور حکومت سے جواب طلب کرنا ہے۔ ایوان میں ہونے والی ہر اہم گفتگو پارلیمانی کارروائی کا حصہ بنتی ہے اور سوالات، توجہ دلاؤ نوٹس، قراردادیں اور قائمہ کمیٹیاں اس کے مؤثر ذرائع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کا 27 ستمبر کو لانگ مارچ اور احتجاج برقرار رکھنے کا فیصلہ

اس تناظر میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پارلیمانی نمائندگان کی کارکردگی قابلِ توجہ ہے۔ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، انجینئر حمید حسین، میثم کاظم اور اسد عباس نے اپنے اپنے ایوانوں میں قومی سلامتی، آئینی حقوق، مظلوم طبقات اور عوامی مسائل پر کھل کر آواز اٹھائی ہے۔ ان کی یہ کاوش محض تقاریر تک محدود نہیں بلکہ حکومت کو جواب دہ بنانے اور عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ تحریر میں کہا گیا کہ پارلیمان کی آواز کو خاموش کرنے سے مسائل ختم نہیں ہوتے، بلکہ انہیں آئینی اور جمہوری طریقے سے مسلسل اٹھانا ہی حل کا راستہ ہے۔

قومی نمائندے کی ذمہ داری عوام کی آواز کو ایوان تک پہنچانا ہے اور حکومت کی ذمہ داری اسے سننا اور جواب دینا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے چار پارلیمانی لیڈرز ہر موقع پر بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں، جو تشیع کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ ہمیں اپنے نمائندوں کی آواز کو کمزور نہیں، مضبوط کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ کو آئین کے دائرے میں مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

8:25 شام اگست 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔