باب المندب تک انصاراللہ کی تاریخی پیش قدمی: یمن کی جنگ نئے اسٹریٹجک مرحلے میں داخل

13 ستمبر, 2026 10:53

شیعیت نیوز : یمن کے مغربی ساحلی علاقوں اور بحیرہ احمر میں انصاراللہ کی حالیہ تیز رفتار پیش قدمی نے خطے کی میدانی اور جغرافیائی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ انصاراللہ کی جانب سے باب المندب کے قریب اہم جزائر اور ساحلی پٹی پر کنٹرول محض یمن کی داخلی جنگ کا حصہ نہیں بلکہ اس نے خطے کے اسٹریٹجک اور عالمی تجارتی توازن کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، انصاراللہ نے مختصر عرصے میں المخا، ذباب، اور حنیش جزائر کے بعد آبنائے باب المندب کے انتہائی اہم داخلی راستے پر واقع ’میون جزیرے‘ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔ ان اہم مقامات پر قبضے نے انصاراللہ کو یمن کے اندرونی علاقوں سے لے کر عالمی بحری تجارت کے اہم ترین راستوں تک اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی صلاحیت فراہم کر دی ہے۔ اب انصاراللہ صرف ایک مقامی فریق نہیں بلکہ بحیرہ احمر اور بین الاقوامی بحری تجارت کی سلامتی کا براہ راست تعین کرنے والی اسٹریٹجک طاقت بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جامع عالمی حکمرانی کے لیے یکطرفہ تسلط اور جنگ پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے، ایرانی صدر

اس زبردست پیش قدمی پر سعودی عرب میں شدید کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ کر کے انصاراللہ کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، واشنگٹن نے نئی جنگ میں براہ راست کودنے سے گریز کرتے ہوئے سعودی عرب کے لیے اپنی انٹیلی جنس اور عملی معاونت میں اضافہ کیا ہے۔ اس وقت 100 سے زائد امریکی فوجی مشیر سعودی عرب میں موجود ہیں جو انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

انصاراللہ کی اس میدانی کامیابی کے عالمی سطح پر درج ذیل اسٹریٹجک اور معاشی اثرات مرتب ہو رہے ہیں:

  • بحری تجارت پر کنٹرول: باب المندب ایشیا اور یورپ کو ملانے والا اہم ترین تجارتی راستہ ہے (جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے)۔ یہاں انصاراللہ کی مضبوط موجودگی عالمی شپنگ کمپنیوں اور خطے کے ممالک کی حکمت عملی پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔

  • توانائی کی ترسیل پر دباؤ: ایک ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے، باب المندب کے جغرافیے پر یمنی فورسز کی گرفت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

  • سیاسی و سکیورٹی دباؤ کی صلاحیت: یمنی فورسز اب ایسی پوزیشن میں آ گئی ہیں جہاں وہ اپنی جغرافیائی برتری کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب، امریکہ اور عالمی منڈیوں کے فیصلوں پر فیصلہ کن دباؤ ڈال سکتی ہیں۔

11:50 صبح ستمبر 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔