کابل میں پرامن شیعہ مظاہرین پر طالبان کا وحشیانہ کریک ڈاؤن

06 ستمبر, 2026 17:31

شیعیت نیوز : افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مغربی علاقے میں خبیث دہشت گرد طالبان رجیم کی جانب سے معروف شیعہ دینی درسگاہ ‘مدرسہ خاتم النبیین’ کو خالی کرنے کے جبری حکم کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے شیعہ مظاہرین پر فورسز نے شدید کریک ڈاؤن کیا ہے۔

عینی شاہدین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، طالبان جنگجوؤں نے پرامن مظاہرین پر لاٹھیاں برسائیں اور انہیں لاتوں اور گھونسوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس پرتشدد کارروائی کے دوران سرکردہ شیعہ علمائے کرام سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : امت مسلمہ کو درپیش مشکلات کا مقابلہ اتحاد اور بصیرت سے ممکن ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق یہ واقعہ طالبان کی جانب سے مذہبی اقلیتوں کے مسلسل اور منظم استحصال کا کھلا ثبوت ہے، جہاں مذاکرات کے بجائے بندوق اور جبر کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ شیعہ فقہ کی تدریس پر پابندی، علماء کونسلوں سے نمائندوں کی بے دخلی اور ہزارہ برادری کی املاک پر قبضے کے بعد اب تعلیمی درسگاہوں کو نشانہ بنانا ان کے سماجی وجود پر کاری ضرب ہے۔ عالمی مبصرین نے واضح کیا ہے کہ اس پرتشدد کریک ڈاؤن نے طالبان کی ‘شمولیتی حکومت اور مساوی تحفظ’ کے تمام کھوکھلے دعوؤں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

6:39 شام ستمبر 6, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔