اسرائیل 2048 سے قبل صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا، معروف صہیونی مصنف
اسرائیل کا زوال
شیعیت نیوز : معروف صہیونی مصنف اور تجزیہ کار دان پری نے عبرانی اخبار ‘معاریو’ میں شائع ہونے والے اپنے ایک تہلکہ خیز مضمون میں ناجائز صہیونی ریاست کو درپیش وجودی خطرات اور شدید اندرونی انتشار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل 2048ء میں اپنے قیام کی سوویں سالگرہ دیکھنے سے پہلے ہی صفحہ ہستی سے مٹ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے سابق ایڈیٹر اور متعدد کتابوں کے مصنف دان پری نے واضح کیا کہ اگر موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ غاصب ریاست ایک ایسے تباہ کن راستے پر گامزن ہو جائے گی جس کے ہولناک نتائج کا اندازہ لگانا بھی ناممکن ہوگا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اسرائیل کی موجودہ صورتحال تصور سے کہیں زیادہ خطرناک ہے؛ مسلط کردہ جنگوں اور غاصبانہ قبضے کے باعث اسرائیل کی عالمی سطح پر تنہائی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس نے اس کی ڈوبتی معیشت اور کھوکھلی سلامتی کو مزید تباہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جارحیت پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، یمنی مسلح افواج کا سخت انتباہ
صہیونی مصنف نے اس سنگین بحران سے عارضی طور پر نمٹنے اور ناگزیر تباہی کو کچھ عرصہ ٹالنے کے لیے 12 تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ ان میں 7 اکتوبر (طوفان الاقصیٰ) کے واقعات کی تحقیقات، نام نہاد غزہ منصوبے کو قبول کرنا، مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی دہشت گردی روکنا اور بستیوں کی توسیع پر پابندی شامل ہے۔ خطے میں مزاحمتی بلاک کے خوف کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا کہ ایران کے ساتھ طویل اور بے مقصد جنگ سے گریز کیا جائے اور لبنان و شام کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جائے۔
دان پری نے اندرونی محاذ پر بدعنوانی کا رونا روتے ہوئے براہ راست نیتن یاہو کی طرف اشارہ کیا اور تجویز دی کہ سنگین مالی کرپشن میں ملوث افراد پر وزیراعظم بننے کی پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے مذہبی مدارس کے طلباء سمیت سب کے لیے لازمی فوجی خدمت نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ صہیونی مصنف نے اپنے مقالے کے آخر میں اس خوف کا واضح اظہار کیا کہ اگر یہ ہنگامی اقدامات فوری طور پر نہ کیے گئے تو اس غاصب ریاست کا 2048ء تک اپنا وجود برقرار رکھنا قطعی طور پر ناممکن ہے۔







