پاک ایران گیس پائپ لائن نہ بننا ملکی معیشت کا نقصان ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
علامہ راجہ ناصر عباس
شیعیت نیوز : سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر حکومتی مجرمانہ غفلت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ منصوبہ قابلِ عمل نہیں تھا تو اس پر دستخط کیوں کرائے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر 20 سال قبل یہ پائپ لائن بچھ جاتی تو آج ملک کی صنعت کا پہیہ چل رہا ہوتا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان نے ماضی میں دہشت گرد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت بیل آؤٹ کیا جب وہ ایران کے ساتھ جنگ میں بری طرح پھنسا ہوا تھا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد ٹرمپ سے دو ٹوک الفاظ میں کہے کہ وہ اس اہم قومی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے اور پاکستان پر پابندیاں عائد نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ بھر میں اہلِ سنت برادران کے میلاد جلوسوں کا بھرپور استقبال کریں گے، علامہ حیات نجفی
دوسری جانب، وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران نے اپنے حصے کا کافی کام مکمل کر لیا ہے، تاہم پابندیوں کے دباؤ کے باعث پاکستان کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ ایران ثالثی عدالت سے بھی رجوع کر چکا ہے اور اب حکومت اس معاملے کا ایسا حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہے جو دونوں ممالک کے لیے قابلِ قبول ہو۔
وزیرِ پٹرولیم نے مزید بتایا کہ وزیرِ اعظم نے اس منصوبے کے حوالے سے ایک خصوصی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اٹارنی جنرل اور وہ خود شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پائپ لائن کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے جسے دیکھ کر اس کا فوری اور مناسب حل نکالنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔






