امریکی اقتصادی جنگ ناکامی سے دوچار، ایران کی پائیداری سے واشنگٹن پسپائی پر مجبور
ٹرمپ
شیعیت نیوز : دہشتگرد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بے مثال اقتصادی جنگ کے اعلان کو محض نئی پابندیوں کے آغاز کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن کئی ماہ کے فوجی اور معاشی دباؤ کے بعد مؤثر اختیارات محدود ہونے کے مسئلے سے دوچار ہے۔ امریکہ اب ایران کے اندر نئے اہداف تلاش کرنے کے بجائے دباؤ کا دائرہ ایران سے باہر پھیلا رہا ہے اور ان ممالک، بینکوں اور کمپنیوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو تہران کو تجارت اور مالی رسائی فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے حملوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے بے کار کر دیے، سابق سی آئی اے سربراہ
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی نئی پالیسی دراصل گزشتہ دباؤ کی ناکامی کا ازالہ ہے۔ ایران نے کئی دہائیوں کی پابندیوں کے دوران غیر رسمی تجارتی نیٹ ورک، تیل کی فروخت کے متبادل راستے، مقامی کرنسیوں کا استعمال اور غیر مغربی شراکت داروں (خاص طور پر چین اور روس) کے ساتھ تعاون کے ذریعے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے مؤثر طریقہ کار تیار کر لیے ہیں۔ محورِ مقاومت کی پائیداری اور ایران کی معاشی لچک نے ثابت کیا ہے کہ دہشتگرد امریکی حکومت کی پابندیاں مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج چین ہے، کیونکہ ایران کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ چین کو جاتا ہے اور بہت سی ادائیگیاں ایسے مالیاتی راستوں سے ہوتی ہیں جو براہِ راست مغربی نظام کے زیرِ اثر نہیں ہیں۔ پابندیوں کے مسلسل اور وسیع استعمال نے خود ان کے خلاف ردعمل بھی پیدا کیا ہے، اور کئی ممالک اب ایسے مالیاتی اور تجارتی راستے تلاش کر رہے ہیں جن میں امریکی نظام پر انحصار کم ہو۔ اس طرح پابندیاں اگرچہ مختصر مدت میں دباؤ پیدا کر سکتی ہیں، لیکن طویل مدت میں یہ ہدف بننے والے ممالک کو متبادل نظام بنانے اور امریکی مالیاتی اثر و رسوخ سے فاصلے کی ترغیب دیتی ہیں۔







