فارن افرز کا اعتراف: محورِ مقاومت نے امریکی-صہیونی دباؤ کو ناکام بنا دیا
شیعیت نیوز : معروف امریکی جریدے فارن افرز نے اپنی تازہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف طویل عرصے سے جاری دباؤ، فضائی حملوں اور دیگر اقدامات کے باوجود تہران کی جانب سے جوابی ردعمل جاری رکھنے کی صلاحیت نے بہت سے اسٹریٹجک ماہرین اور تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ جریدے کے مطابق ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں نے شدید دباؤ کے باوجود نمایاں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، لبنان میں حزب اللہ اسرائیلی کارروائیوں کے باوجود ایک مؤثر قوت کے طور پر موجود ہے، جبکہ یمن میں بھی بحیرۂ احمر میں کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی یہ پائیداری اس سوچ کے لیے ایک چیلنج ہے جس کی بنیاد پر امریکہ اور اسرائیل نے اپنی حکمتِ عملی ترتیب دی تھی، تاہم عملی طور پر نتائج توقعات کے مطابق سامنے نہیں آئے۔ فارن افرز کے مطابق دو دہائیاں قبل شاید ایسی حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہ ڈھانچہ ایک پیچیدہ، باہم مربوط اور کثیرالجہتی نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے جسے نشانہ بنا کر مفلوج نہیں کیا جا سکتا۔ جریدے نے نتیجہ اخذ کیا کہ غزہ جنگ، شام میں سیاسی تبدیلیوں اور ایران کے خلاف وسیع فضائی حملوں کے باوجود محورِ مقاومت مجموعی طور پر اپنی بنیادی ساخت اور اثرورسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یزیدی سعودی رجیم ایک اسٹریٹجک بحران میں پھنس چکی ہے، فارن پالیسی
یہ رپورٹ اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ یزیدی سعودی رجیم اور اس کے امریکی-صہیونی آقاؤں کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ منافق عرب حکمران، جنہوں نے غزہ میں 20,000 معصوم بچوں کے قتل پر خاموشی اختیار کی اور یمن کے خلاف 14 ممالک کا اتحاد بنا کر اپنی یزیدی سوچ کا مظاہرہ کیا، آج خود ایک اسٹریٹجک بحران میں پھنس چکے ہیں۔ ان ناصبی تکفیریوں کا انجام یزید کی طرح جہنم واصل ہوگا، جبکہ ایران، حماس، حزب اللہ اور انصار اللہ پر مشتمل محورِ مقاومت روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں کلعدم لشکر جھنگوی اور سپہ صحابہ کے دہشت گرد بھی اسی یزیدی زمرے میں آتے ہیں اور ان کا انجام بھی جہنم واصل ہے۔







