اربعین حسینیؑ حسینی طرزِ زندگی، نئی اسلامی تہذیب اور مہدوی معاشرے کا عملی نمونہ ہے: علیرضا پناہیان

03 اگست, 2026 12:28

شیعیت نیوز: ایران کے معروف عالمِ دین اور استادِ حوزہ و یونیورسٹی حجۃ الاسلام والمسلمین علیرضا پناہیان نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربعین پیدل مارچ محض ایک مذہبی سفر یا سوگ کی تقریب نہیں، بلکہ یہ حسینی طرزِ زندگی کا عملی مظہر، نئی اسلامی تہذیب کی بنیاد اور مہدوی معاشرے کی آمادگی کا بہترین نمونہ ہے۔ اگر یہ زیارت بارگاہِ الٰہی میں قبول ہو جائے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، کیونکہ یہ عظیم اجتماع امت کی اجتماعی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روایات میں زائرِ اربعین کے ہر قدم کے لیے بیان کردہ عظیم ثواب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عمل صرف انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک بڑی سماجی تحریک ہے۔ اربعین دراصل مہدوی معاشرے کی عملی مشق ہے، جہاں عوام کی ذمہ داری، شعور اور فعال شرکت عدل کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اربعین کی عظیم تحریک حضرت زینبؑ کے ابدی پیغام کا ثمر ہے، آیت اللہ جوادی آملی

انہوں نے کہا کہ اربعین کے دوران لاکھوں افراد بغیر کسی سرکاری حکم یا مالی مفاد کے، صرف اخلاص، ایثار اور محبت کے تحت زائرین کی خدمت کرتے ہیں۔ مواکب اس بات کی مثال ہیں کہ لوگ اپنے وسائل دوسروں پر خرچ کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ مغربی تہذیب صرف قوانین پر انحصار کرتی ہے، جبکہ اسلامی معاشرہ ایثار اور قربانی کی بنیاد پر حقیقی عدل قائم کرتا ہے۔

علیرضا پناہیان نے زور دیا کہ مہدوی حکومت کے ذمہ داران اور معاشرے کے منتظمین کو بھی اربعین کے خدام کی طرح اخلاص، عاجزی اور خدمت کے جذبے کو اپنانا چاہیے۔ اگر مساجد بھی مواکبِ اربعین کی طرح عوامی خدمت اور مسائل کے حل کے مراکز بن جائیں تو بہت سے مسائل باہمی تعاون سے حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے قرآنی آیت «لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انبیائے کرامؑ کا مقصد ایسا معاشرہ بنانا تھا جہاں لوگ خود عدل و انصاف کے قیام کے لیے آگے آئیں، اور اربعین اسی اجتماعی شعور کی روشن مثال ہے۔

1:58 شام اگست 3, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔