اربعین کی عظیم تحریک حضرت زینبؑ کے ابدی پیغام کا ثمر ہے، آیت اللہ جوادی آملی
شیعیت نیوز: مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے عدلیہ کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین غلام حسین محسنی اژہ ای سے ملاقات کے دوران کہا کہ اربعین کی عظیم تحریک اور ثقافتِ "یا حسینؑ” دراصل حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے اس لازوال پیغام کا ثمر ہے کہ حق کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حضرت زینبؑ کے خطبات محض مصائب کا بیان نہیں تھے بلکہ اموی جبر کے خلاف ایک مضبوط فکری اعلان تھے۔ آپؑ کا تاریخی جملہ "ما رأیتُ إلا جمیلاً” اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ ظلم کا ذمہ دار ظالم ہے نہ کہ خداوند متعال، اور انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے تفسیرِ تسنیم کی تدوین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ چالیس برسوں کی مسلسل علمی کوششوں کا نتیجہ ہے جہاں نئے سوالات کا جواب دیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ حوزہ ہائے علمیہ کو بدلتے زمانے کے فکری چیلنجز کا جواب دینے کے لیے مسلسل تحقیق جاری رکھنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اربعینِ حسینیؑ روح کی بلندی اور تشیع کی معراج کا سفر ہے، مولانا کلب رشید رضوی
مرجع تقلید نے مزید کہا کہ اسلامی فقہ میں فیصلے شرعی دلائل، گواہی اور قسم کی بنیاد پر ہوتے ہیں نہ کہ علمِ غیب پر۔ انہوں نے مؤمنین کی قربانیوں اور انقلاب کے دفاع کو نصرتِ الٰہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسے غزوۂ بدر میں مدد ملی، آج بھی اہل ایمان کی نصرت پر قادر ہے۔
اختتام پر انہوں نے شہدائے اسلام و انقلاب خصوصاً رہبرِ شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور دعا کی کہ نظامِ اسلام کے خدمت گزاروں کو امام مہدیؑ کے ظہور تک اس امانت کی حفاظت کی توفیق عطا ہو۔







