سعودی پالتو تقی عثمانی کا اصل چہرہ بے نقاب، ٹی ٹی پی کا شیخ الاسلام کربلا پر حملے پر خاموش

29 جولائی, 2026 11:24

شیعیت نیوز : جب کربلائے معلیٰ کے قریب مساجد پر بم گرائے جا رہے ہیں، قرآنِ مجید کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور اربعین کے مقدس موقع پر نمازی شہید کیے جا رہے ہیں تو پاکستان کے نامور عالمِ دین مفتی تقی عثمانی مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، اور یہ خاموشی کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک طے شدہ رویہ ہے۔

یاد رہے کہ تکفیری دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حال ہی میں اپنے سرکاری رسالے مجلہ طالبان میں مفتی تقی عثمانی کو شیخ الاسلام کا لقب دے کر ان کے اقوال شائع کیے اور ان کے لیے دعائیں کیں۔ یہ وہی مفتی صاحب ہیں جنہوں نے اپنی کتاب میں صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ہجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو باغی قرار دیا جنہیں امام علی علیہ السلام سے محبت کے جرم میں معاویہ کی فوج نے ان کی حاملہ اہلیہ کا پیٹ چاک کر کے شہید کیا تھا۔

اب جب آلِ سعود نے یہود و نصاریٰ امریکہ کے ساتھ مل کر اربعین پر عراق کی مقدس سرزمین پر حملہ کیا، مساجد کو بم سے اڑایا، قرآن کی بے حرمتی کی اور نمازیوں کو شہید کیا تو مفتی تقی عثمانی کی زبان پر ایک لفظ نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: اربعین پر کربلا میں خون، مساجد پر بمباری، قرآن کی توہین، پاکستانی سعودی پالتو مولوی پھر بھی خاموش

سوال یہ ہے کہ جن کو تکفیری ٹی ٹی پی اپنا شیخ الاسلام مانتی ہو، جو حضرت ہجر بن عدیؓ کو باغی لکھیں، جن کے اقوال دہشتگردوں کے رسالوں میں چھپیں اور جو سعودی عرب کی کربلا پر بمباری پر خاموش رہیں، کیا ایسی شخصیت کو پاکستانی قوم اپنا مذہبی رہنما مانتی رہے گی؟ حبِ امام علی علیہ السلام آج بھی 1400 سال بعد مومن اور منافق کی پہچان کرواتی ہے۔

12:55 شام جولائی 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔