اربعین پر کربلا میں خون، مساجد پر بمباری، قرآن کی توہین، پاکستانی سعودی پالتو مولوی پھر بھی خاموش
شیعیت نیوز : انبیاء، اولیاء اور اہلِ بیت علیہم السلام کی مقدس سرزمین عراق پر آلِ سعود نے یہود و نصاریٰ امریکہ کے ساتھ مل کر اربعین جیسے انتہائی حساس موقع پر حملے کیے جب پوری دنیا کے مسلمان نواسۂ رسول امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے کربلا جا رہے ہیں۔ کربلائے معلیٰ کے قریب مساجد کو بم سے اڑایا گیا، قرآنِ مجید کی بے حرمتی ہوئی اور نماز ادا کرتے نمازی شہید کر دیے گئے۔
یہ وہی آلِ سعود ہے جس نے یمن میں بارہ سال سے یہود و نصاریٰ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا خون بہایا، جس نے اپنی سرزمین پر امریکی اور صہیونی فوجی اڈے دے رکھے ہیں اور جو آج کربلا کی مقدس سرزمین پر بم گرا کر اپنی یزیدی ذہنیت کا ثبوت دے رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے وہ مولوی کہاں ہیں جو ہر چھوٹے بڑے معاملے پر فتوے جاری کرتے ہیں؟ جب مساجد پر بم گرائے جا رہے ہیں، قرآن کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور نمازی شہید کیے جا رہے ہیں تو طاہر اشرفی جیسے سعودی دہشتگرد اور ان کے ہم نوا مولویوں کی زبانیں کیوں بند ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اربعین کے موقع پر آلِ سعود کی عراق پر جارحیت، موساد اور یوکرینی جاسوسوں کے بعد بھی بدلہ لینے کی ڈھٹائی
جواب واضح ہے، ان کے گلے میں سعودی ریال کا پٹا پڑا ہوا ہے اور جب تک سعودی عرب سے ریال آتے رہیں گے یہ مولوی اپنے آقاؤں کے ہر جرم پر خاموش رہیں گے۔ عقل اور ضمیر کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے ممالک پر حملہ کرنے والوں کی بھرپور مذمت کی جائے مگر یہ سعودی پالتو ایسا کبھی نہیں کریں گے کیونکہ ان کا اسلام سے نہیں بلکہ سعودی دولت سے رشتہ ہے۔







