ایران مقاومت، امن اور استقامت کی سرزمین ہے، ہندو رہنما شری سوامی سارنگ

25 جولائی, 2026 22:29

شیعیت نیوز : ہندوستان کی عالمی امن فاؤنڈیشن کے صدر اور ہندو رہنما شری سوامی سارنگ نے ایران کو "مقاومت، امن اور استقامت کی سرزمین” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے مصنوعی رعب کو توڑ کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ آج بھی دنیا میں معنویت اور انسانی اقدار کا مرکز ہے۔

رہبر انقلاب کی تشییع جنازہ کی تقریب میں شرکت کے لیے ایران آنے والے شری سوامی سارنگ نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ جنگ اور خونریزی سے گریز کرتے ہوئے انسانی اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک یا طاقت انسان کی عزت، وقار اور خوشحالی کو پابندیوں یا دباؤ کے ذریعے محدود نہیں کر سکتی۔

انہوں نے واقعۂ عاشورا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کربلا صرف تاریخ کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ گیر انسانی تحریک ہے جس کی بنیاد عدل، اخلاق اور انسانی اقدار پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا پیغام آج بھی دنیا بھر کے آزادی پسندوں اور انصاف کے علمبرداروں کے لیے باعثِ تحریک ہے۔

شری سوامی سارنگ نے ایران میں پا برہنہ چلنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل حضرت امام حسین علیہ السلام سے عقیدت اور کربلا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی علامت ہے۔ ان کے بقول، اس سفر کا ہر قدم ان کے لیے عبادت اور عاشورا کے انسانی و الٰہی پیغام سے تجدیدِ عہد کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آیت اللہ خامنہ ای سادگی اور روحانی قیادت کا نمونہ تھے، ہندو اسکالر پنڈت وجے کمار شرما

اس ہندو رہنما نے ایرانی عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک قدیم تہذیب، عظیم ثقافت اور درخشاں تاریخی ورثے کا حامل ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے اپنے کردار اور طرزِ زندگی سے ثابت کیا ہے کہ وہ انسانی وقار، معنوی اقدار اور اخلاقی اصولوں کی پاسدار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم ظلم کے خلاف استقامت، عزتِ نفس اور انسانی کرامت کی علامت ہے۔ جو قومیں انصاف، انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں پر قائم رہتی ہیں، وہ پابندیوں، دباؤ اور مشکلات کے باوجود کبھی شکست نہیں کھاتیں۔

شری سوامی سارنگ نے شہید رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو عصر حاضر کی مؤثر شخصیات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ انسانی اقدار، عدل اور اقوام کی عزت و وقار پر زور دیا، جس کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک کے عوام اور دانشور ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس تقریب میں صرف ایک مہمان کے طور پر نہیں بلکہ ایرانی عوام کے غم میں شریک ہونے اور ان سے اظہارِ ہمدردی کے لیے شریک ہوئے ہیں۔

11:28 شام جولائی 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔